عذاب الٰہی کے ملبے پر قوس قزحیوں کاحیوانی جشن شروع : اخلاقیات کے چہرے پر تھوکتی اسرائیلی منافقت اور ’پنک واشنگ‘ کا عالمی تماشا!

نہال معظم
بحیرۂ مردار کی مردہ، خاموش اور عبرتناک وادی پر اسرائیل نے تاریخ کے سب سے بڑے پرائیڈ فیسٹیول کا اعلان کر کے صرف ایک ایونٹ نہیں سجایا، بلکہ مذہبی اقدار، مشرقی تہذیب اور انسانی اخلاقیات کے منہ پر کھلا طمانچہ مارا ہے۔ اسرائیل کی بدنامِ زمانہ سیکولر اور ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ+) تنظیموں اور نجی پروڈکشن کمپنیوں کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس چار روزہ فیسٹیول کا مقصد سیاحت کی آڑ میں ایک بھیانک نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دینا ہے۔ اسرائیل اس فیسٹیول کو “آزادی” اور “روشن خیالی” کا نام دے رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خونی ریاستی جرائم پر لبرلزم کا رنگ چڑھانے کی وہ مکروہ اور عیارانہ حکمتِ عملی ہے جسے دنیا “پنک واشنگ” کے نام سے جانتی ہے جو معصوم انسانوں کے خون سے رنگے ہاتھوں پر لبرل ازم کے چمکدار دستانے چڑھانے کی ایک گھناؤنی صہیونی کوشش ہے۔ اسرائیل دنیا بھر کو، بالخصوص امریکہ اور یورپ کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اس روایتی، پسماندہ اور کٹر مشرقِ وسطیٰ کے عین بیچ میں انسانی آزادیوں اور روشن خیالی کا واحد جزیرہ ہے، اور یہ وہ غلیظ منافقت ہے جس کا مقصد عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور خطے میں جاری بے رحمانہ ریاستی دہشت گردی، معصوم بچوں کے قتلِ عام اور ہولناک جنگی جرائم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے آسمانی تاریخ قومِ لوط کے عذاب کی علامت، سدوم اور گمورہ کے نام سے یاد کرتی ہے، جہاں ان کی بدترین جنسی بے راہ روی کے سبب خدا کا غیظ و غضب نازل ہوا تھا اور بستیوں کو الٹ کر رہتی دنیا تک کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا گیا تھا، مگر آج اسی ملبے پر، اسی خاکستر زمین پر لبرل ازم، عریانیت اور سیاسی منافقت کا جشن منانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس تاریخی مقام کو چننا کوئی اتفاق یا نادانی نہیں، بلکہ طاقت اور عیاشی کے نشے میں چور سیکولر لابی اس ملعون جگہ پر اپنی ‘علامتی فتح’ کا جھنڈا گاڑنے پر تل گئی ہے کیونکہ وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جس جگہ کو مذہب اور خدا نے ممنوعہ یا ملعون قرار دیا تھا، وہاں اب ان کی نفس پرستی اور حیوانیت کا راج ہوگا اور کوئی آسمانی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔ اس بدترین سرکشی پر خود اسرائیل کے اندر رہنے والے کٹر آرتھوڈوکس یہودی بھی غصے سے تلملا رہے ہیں اور ان کے ربیوں نے سخت فتوے جاری کیے ہیں کہ یہ جشن ارضِ مقدس پر خدا کے عذاب اور قہر کو دوبارہ دعوت دینے کے مترادف ہے اور وہ سڑکوں پر نکل کر اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، اس کی تپش پورے مشرقِ وسطیٰ کے غیور عوام میں محسوس کی جا رہی ہے، جہاں سرحد کے بالکل پار بحیرۂ مردار کے دوسرے ساحل پر موجود اردن کے مسلمان اور خود اسرائیل کے اندر بسنے والے لاکھوں قدامت پسند عرب اس سفاکانہ اقدام کو اپنی غیرت، ایمانی اقدار اور خاندانی نظام پر ایک براہِ راست اور گہرا ثقافتی حملہ قرار دے کر شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ایونٹ بحیرہ مردار کے اس مغربی اور جنوبی ساحل پر ہو رہا ہے جو اسرائیل کے انتظامی کنٹرول میں ہے، جہاں نیتن یاہو کی حکومت، جس میں خود ایسے انتہا پسند وزراء شامل ہیں جو اس فیسٹیول کو نفرت اور غصے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اپنے بین الاقوامی سٹرٹیجک مفادات، سیاسی بقاء اور ڈالرز کی چمک کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ اور وہاں کی کارپوریٹ لابی نے آزادیِ اظہارِ رائے کے قوانین کا سہارا لے کر اس بے حیائی کو فول پرو ف سیکیورٹی اور قانونی تحفظ فراہم کیا ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب بات مسلم خطے کی تمدنی اساس کو مسخ کرنے اور مغرب کی آشیرباد حاصل کرنے کی ہو تو ان کے تمام نام نہاد مذہبی اور اخلاقی تحفظات ایک پل میں ہوا ہو جاتے ہیں۔ اس بدترین سرکشی کے اثرات عالمی سطح پر ایک ہولناک اور نہ مٹنے والی نظریاتی خلیج کی صورت میں برآمد ہوں گے، جہاں ایک طرف مغرب کی وہ اندھی لبرل دنیا ہوگی جو اسے ‘انسانی حقوق کی ترقی’ کا نام دے کر اس پر تالیاں بجائے گی، اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے کروڑوں عوام ہوں گے جن کے دلوں میں اس صہیونی ڈھونگ اور مغربی منافقت کے خلاف نفرت کا لاوا مزید پکے گا جو کسی بھی وقت کسی بڑے دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے، جبکہ یہ فیسٹیول خطے میں مذہبی انتہا پسندی اور مزاحمتی تحریکوں کو ایک نیا اور جذباتی طور پر جاندار بیانیہ فراہم کرے گا کہ اب تہذیبوں کا یہ ٹکراؤ ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اخلاقیات کی تمام آخری سرحدیں پامال کی جا چکی ہیں اور دشمن اب ان کے عقائد پر حملہ آور ہے۔ یہ کائنات کا ایک ابدی اور مسلمہ اصول ہے کہ جب انسانی تکبر اپنی آخری حدیں پار کر جائے اور انسان عبرت کی نشانیوں پر کھڑے ہو کر اپنے ماضی کے عبرتناک جرائم کا جشن منانے لگے، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے اور زوال کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ بحیرہ مردار کا یہ چار روزہ پرائیڈ فیسٹیول اسرائیل کی کسی لبرل کامیابی کا جشن نہیں، بلکہ اس کے اندرونی اخلاقی دیوالیہ پن، گلی سڑی سیاسی منافقت اور کائناتی قوانین سے کھلی فرعونی جنگ کا اعتراف نامہ ہے، جس کا انجام تاریخ کے سیاہ ترین صفحات میں پہلے ہی درج کیا جا چکا ہے اور انسان ایک بار پھر اسی ملبے پر کھڑا ہو کر اس ہستی کو للکارتا ہوا ننگا ناچ رہا ہے جس نے اسے ملبہ بنایا تھا۔



