ماسکو مذاکرات کا خفیہ ڈراپ سین،افغان سرحدپربھارتی ہتھیار اور پاکستان کاگھیراؤ

تحریر:معظم فخر

​مشرقی اور مغربی سرحدوں کے بدلتے ہوئے سٹریٹجک منظر نامے نے خطے کو ایک نئی اور ہولناک جنگ کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بظاہر روسی لیبل والے لیکن درحقیقت بھارتی ساختہ ہتھیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں۔ حال ہی میں ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے دوران پردے کے پیچھے کچھ ایسی خفیہ سرگرمیاں اور ملاقاتیں ہوئیں جنہوں نے خطے کے روایتی توازن کو یکسر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کابل حکومت اس وقت جس اونچے بانس پر چڑھی ہوئی ہے اور جس کے بلبوتے پر وہ پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، وہ دراصل کوئی روسی بانس نہیں بلکہ خالصتاً ایک انڈین بانس ہے جس کا سہارا لے کر افغان حکمران اپنی تباہی کا سامان خود تیار کر رہے ہیں۔ افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب مجاہد نے ماسکو سے واپسی پر کابل ایئرپورٹ پر انتہائی جارحانہ اور پراعتماد لہجے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اب مستقبل میں پاکستان کو افغانستان پر کسی قسم کی فضائی یا زمینی کارروائی کی جرات نہیں ہوگی کیونکہ کابل اور ماسکو کے درمیان ایک بڑا دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت روس افغانستان کو جدید ترین فضائی دفاعی نظام فراہم کرے گا۔ اس بیان کے بعد افغان حلقوں اور خاص طور پر بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے، لیکن اس جھوٹے پروپیگنڈے کی عمر بہت مختصر ثابت ہوئی جب خود ماسکو کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کر دیا گیا۔ روس نے واضح کیا کہ اس کا افغانستان کے ساتھ کوئی نیا دفاعی یا تزویراتی معاہدہ طے نہیں پایا بلکہ روس نے محض اس پرانے اور خستہ حال فوجی ساز و سامان کی مرمت کا وعدہ کیا ہے جو وہ دہائیوں پہلے افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اور یہ مرمت بھی اس سخت شرط سے مشروط ہے کہ افغان طالبان داعش خراسان جیسے خطرناک دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی کریں گے جو سینٹرل ایشین ریاستوں میں بدامنی پھیلا رہے ہیں، تاہم یہ کام افغان حکومت کے بس سے بالکل باہر نظر آتا ہے کیونکہ ان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اسی ٹیرر اکانومی اور دہشت گردوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر چل رہا ہے۔

​ماسکو ڈائیلاگ کی اصل سنسنی خیز کہانی روس اور افغان روابط میں نہیں بلکہ اس کانفرنس کے پسِ پردہ ہونے والی ان خفیہ ترین ملاقاتوں میں چھپی ہے جس کا خطرناک سکرین پلے نئی دہلی میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں بھارت کی نمائندگی ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کر رہے تھے اور انہوں نے کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر ملا یعقوب مجاہد کے ساتھ متعدد طویل اور خفیہ ملاقاتیں کیں، جس کے بعد بھارت اور افغان طالبان کے درمیان ایک ہولناک دفاعی ڈیل کو حتمی شکل دی گئی۔ اس خفیہ تزویراتی معاہدے کے تحت بھارت اب افغان فوج کو اپنا تیار کردہ جدید ترین پیناکا ملٹی بیرل راکٹ لانچر سسٹم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے آکاش میزائل سسٹم فراہم کرنے جا رہا ہے۔ انتہائی باوثوق اطلاعات کے مطابق ان خطرناک ہتھیاروں کی ابتدائی کھیپ افغانستان پہنچائی جا چکی ہے اور ان پر روسی ساختہ ہونے کا لیبل اور پینٹ چڑھا دیا گیا ہے تاکہ عالمی سطح پر بھارت براہِ راست کسی تنازعے کا شکار نہ بنے اور پاکستان کے خلاف ایک پراکسی جنگ کا آغاز کیا جا سکے۔ پیناکا راکٹ سسٹم کی مار کرنے کی صلاحیت پچہتر کلومیٹر جبکہ آکاش میزائل کی رینج ستر کلومیٹر تک ہے، جس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ اب افغان حدود میں بیٹھ کر پاکستان کے اہم ترین سرحدی شہروں پشاور، کوئٹہ اور دیگر حساس دفاعی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کا ایک منظم بندوبست کیا جا رہا ہے۔ اس خطرناک ترین بھارتی سازش کا سب سے اہم ترین ہدف پاکستان کی روایتی فضائی بالا دستی کو چیلنج کرنا، پاکستانی ڈرونز اور جنگی طیاروں کو روکنے کی صلاحیت پانا اور سرحد پار موجود دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو ایک محفوظ چھتری فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پاکستان میں بے خوف ہو کر دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا سکیں۔

​اس خوفناک کھیل کا سب سے بڑا محرک بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت ہے جس سے بھارت اور اسرائیل شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بھارت کی اس سفارتی اور سٹریٹجک ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران جب امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیکس موجود تھے تو وہاں موجود بھارتی صحافیوں نے پاکستان کے لانگ رینج میزائل سسٹم کے حوالے سے انتہائی شرپسندانہ سوالات پوچھے اور پوری کوشش کی کہ امریکی وزیرِ جنگ سے پاکستان کے خلاف کوئی منفی یا دھمکی آمیز بیان لے لیا جائے، لیکن امریکی وزیر نے واضح طور پر یہ کہہ کر بھارت کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور امریکہ پاکستان کو اپنے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔ امریکہ نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے جس کے بعد بھارت نے بوکھلا کر پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے مغربی سرحد پر افغان کارڈ کو پوری طرح استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سارے معاملے کی تصدیق خود افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک اہم بیان کے ذریعے کر دی جس میں انہوں نے کہا کہ ماسکو کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی معاہدہ کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہے اور اگر کوئی دوسرا ملک بھی افغانستان کے ساتھ ایسے دفاعی تعاون کے معاہدے کرنا چاہتا ہے تو کابل کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ یہ دراصل نئی دہلی اور تل ابیب کو ایک کھلا بلینک چیک دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی نظام اور مہلک ہتھیار لے کر افغانستان آ جائیں۔ ان ہولناک حالات کے تناظر میں پاکستان کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے حوالے سے ایک انتہائی جارحانہ اور کڑی حکمتِ عملی اپنائے، اور افغانستان کے اندر موجود پاکستان کے سٹریٹجک فرشتوں کو اب یہ خصوصی اور حتمی ٹاسک ملنا چاہیے کہ جیسے ہی یہ بھارتی ساز و سامان اور میزائل افغان اڈوں پر اتریں، انہیں ان ریپ ہونے اور کھلنے سے پہلے ہی وہیں زمین دوز اور تباہ و برباد کر دیا جائے کیونکہ یہ ہتھیار اب پاکستان کی بقا اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک براہِ راست اور ناقابلِ برداشت خطرہ بن چکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button