افغان انٹیلیجنس کے خفیہ اجلاس پر حملہ، ‘را’ آفیسر اور طالبان کمانڈر ہلاک،61 لاشوں کی پراسرار تدفین

قندھار: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) عید الاضحیٰ کے موقع پر افغانستان کے دارالحکومت کابل اور قندھار سے انتہائی ہنگامی اور سنسنی خیز اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ غیر کنٹرول شدہ افغان میڈیا ذرائع کے مطابق، کابل میں افغان طالبان ریجیم کی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک انتہائی حساس اور خفیہ اجلاس کے دوران اس وقت ہڑکپ مچ گیا جب ایک مسلح حملہ آور نے اندر گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے کی خبر کو افغان ریجیم کی جانب سے سخت سنسرشپ کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس اجلاس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ (RAW) کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف نئی پراکسیز اور دہشت گردی نیٹ ورک کو سپانسر کر رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ‘را’ کا ایک اہم افسر اور افغان طالبان کا سینیئر کمانڈر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، قندھار کے مقامی قبرستان میں ایک ہی دن کے اندر 61 نامعلوم افراد کی پراسرار تدفین نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان 61 لاشوں کو الگ الگ قبروں میں دفنایا گیا ہے لیکن کتبوں پر نام اور ولدیت درج کرنے کے بجائے مخصوص خفیہ کوڈز اور نمبرز لگائے گئے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ لاشیں یا تو افغان عقوبت خانوں میں مارے جانے والے لاپتہ افراد کی ہیں یا پھر پاکستان کے خلاف تخریب کاری میں ملوث ان دہشت گردوں کی، جنہیں پاکستان کی جوابی ملٹری کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا اور اب افغان ریجیم حقیقت چھپانے کے لیے انہیں بے نام دفن کر رہی ہے۔ اسی دوران پنجشیر اور بدخشاں میں شمالی اتحاد (نیشنل ریزسٹنس فرنٹ) نے افغان طالبان کے ملٹری سکواڈ پر بڑا حملہ کر کے گاڑی کو تباہ کر دیا، جس کے بعد طالبان اہلکار علاقہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس بڑی سفارتی و عسکری اتھل پتھل اور کابل حملے کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے معروف صحافی شکیل ملک کا یہ تازہ ترین وی لاگ لازمی دیکھیں۔




