سندھ میں خواتین کو استعمال کر کے جھوٹے مقدمات درج کرانے کے مبینہ نیٹ ورکس کاانکشاف
جھوٹے الزامات سے باعزت خاندان ذہنی دباؤ اور بدنامی کا شکار

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی/جانو ڈاٹ/پی کے)سندھ کے مختلف علاقوں خصوصاً زیریں اور بالائی سندھ میں ذاتی دشمنیوں، کاروباری تنازعات، سیاسی اختلافات اور دیگر جھگڑوں میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے خواتین کو استعمال کر کے جھوٹے مقدمات درج کرانے اور مبینہ بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شہری، سماجی اور قانونی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف ذرائع اور متاثرہ افراد کے مطابق بعض منظم گروہ “عورت کارڈ” استعمال کرتے ہوئے اغوا، زیادتی، ہراسانی اور بدکرداری جیسے حساس الزامات کے ذریعے لوگوں کو دباؤ میں لانے اور مالی فوائد حاصل کرنے میں ملوث بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسے گروہ معاشرے میں خواتین سے متعلق معاملات کی حساسیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ اس نوعیت کے الزامات سامنے آنے پر باعزت اور شریف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد شدید ذہنی دباؤ، سماجی بدنامی اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسی خوف کے باعث متعدد متاثرہ افراد مبینہ طور پر خاموشی اختیار کرنے، معاملات رفع دفع کرنے یا مالی مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایسے کئی واقعات منظرعام پر آ چکے ہیں جبکہ متعدد معاملات بدنامی کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض عناصر سوشل میڈیا، مقامی تنازعات اور ذاتی دشمنیوں پر نظر رکھتے ہیں اور پھر کسی ایک فریق سے رابطہ کر کے مخالفین کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرانے کی “سہولت” فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خواتین کو متاثرہ ظاہر کر کے مختلف تھانوں میں اغوا، زیادتی یا ہراسانی جیسے مقدمات درج کرائے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں جبکہ بعض قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کے مقدمات میں مکمل پری انکوائری اور شواہد کی باریک بینی سے جانچ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض متاثرہ افراد کو گرفتاری، بدنامی اور میڈیا ٹرائل کے خوف سے دباؤ میں لا کر مالی مطالبات کیے جاتے ہیں جبکہ کچھ معاملات میں مقدمات درج ہونے کے بعد شکایت کنندگان کے غائب ہو جانے یا رابطے ختم کر دینے جیسے پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین سے متعلق حقیقی شکایات کو ہر صورت سنجیدگی سے لینا ضروری ہے تاہم جھوٹے مقدمات، بلیک میلنگ اور قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے غیرجانبدارانہ انکوائری، شفاف تحقیقات اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے تاکہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔ شہری، سماجی اور قانونی حلقوں نے آئی جی سندھ، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بھر میں اس نوعیت کی مبینہ سرگرمیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر جامع تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی منظم نیٹ ورک کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا کر بےگناہ افراد کو ہراسانی، جھوٹے مقدمات اور بلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کیا جائے۔



