غزہ جنگ کے دوران 51 ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف

دوحہ(جانوڈاٹ پی کے)غزہ جنگ کے دوران صرف امریکا ہی نہیں بلکہ بھارت اور برازیل سمیت 51 ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے ایک سنسنی خیز اور تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور جنگ کے دوران صرف امریکا ہی نہیں، بلکہ دنیا کے 51 ممالک اسرائیل کو مہلک ہتھیار، فوجی ساز و سامان اور اسپیئر پارٹس فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر دنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف پسِ پردہ کئی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کو جاری رکھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر، شپنگ ڈیٹا اور برآمدات کے سرکاری ریکارڈ کی مدد سے ان تمام 51 ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے بین الاقوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود اسرائیل کو عسکری سپلائی چین فراہم کی۔

تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اس فہرست میں سرِفہرست ہے جو اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی مددگار رہا، تاہم بھارت کی جانب سے بارود، ڈرونز اور فوجی پرزہ جات کی فراہمی، اور برازیل سمیت کئی یورپی و لاطینی امریکی ممالک کی جانب سے خام مال اور دیگر لاجسٹک مدد نے اسرائیلی جنگی مشینری کو مسلسل متحرک رکھا۔

اس فہرست میں امریکا 42 فیصد عسکری سپلائی کے ساتھ پہلے جبکہ بھارت 26 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر بڑے سپلائرز میں رومانیا (8 فیصد)، تائیوان (4 فیصد) اور جمہوریہ چیک (3 فیصد) شامل ہیں۔

یورپی یونین کے ممالک مجموعی طور پر اسرائیل کی کل عسکری درآمدات کے 19 فیصد کے ذمہ دار رہے، جبکہ تائیوان، چین، جنوبی کوریا، ویتنام اور سنگاپور سمیت مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا سے تقریباً 8 فیصد سپلائی آئی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی ایسے ممالک جنہوں نے عالمی عدالت انصاف کے جنوری 2024 کے اسرائیل مخالف فیصلے کی عوامی سطح پر حمایت کی تھی، وہ بھی پسِ پردہ اسرائیل کو عسکری سامان بھیجتے رہے۔

چین نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی امید ظاہر کی تھی لیکن جنگ کے دوران چین سے اسرائیل کو 19.6 ملین ڈالرز کا عسکری سامان گیا، جس کا 83 فیصد حصہ عدالتی فیصلے کے بعد بھیجا گیا۔

سنگاپور نے جنگ بندی کی حمایت کی مگر اس کی طرف سے بھیجی گئی 5.6 ملین ڈالرز کی عسکری سپلائی کا 88 فیصد حصہ آئی سی جے کے فیصلے کے بعد اسرائیل پہنچا۔

سوئٹزرلینڈ نے بین الاقوامی قانون کے احترام کی بات کی لیکن جنگ کے دوران 2.5 ملین ڈالرز کا عسکری سامان اسرائیل بھیجا جس کا 98 فیصد عدالتی حکم کے بعد ریکارڈ ہوا۔

ترکیہ کی حکومت نے مؤقف اپنایا  تھا کہ مئی 2024 سے اسرائیل کے ساتھ تمام تر تجارت مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی اور اشدود بندرگاہ کا ڈیٹا اس کی تصدیق بھی کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود مئی کے بعد بھی بن گورین ایئرپورٹ اور حیفا بندرگاہ کے ذریعے ترکیہ کا عسکری سامان اسرائیل میں داخل ہوتا رہا۔

اسی طرح برازیل نے بھی عدالتی حکم کی تعمیل کا مطالبہ کیا تھا مگر وہاں سے بھی 2.4 ملین ڈالرز کی عسکری ترسیل اسرائیل ہوئی جس کا 80 فیصد جنوری 2024 کے بعد بھیجا گیا۔

اس کے برعکس آذربائیجان اور نیدرلینڈز کی جانب سے جنگ کے دوران سپلائی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ہالینڈ نے واضح کیا کہ وہ صرف دفاعی مقاصد کے لیے سامان کی منظوری دیتا ہے، چنانچہ جنگ کے دوران اس کی سپلائی ماضی کے کروڑوں ڈالرز کے مقابلے میں سکڑ کر صرف 29 ہزار ڈالرز رہ گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ عالمی برادری کے اس دوغلے پن کو بے نقاب کرتی ہے جہاں ایک طرف امن کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف جنگ کے لیے اسلحہ پہنچایا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button