بدین،نہری پانی کی چوری روکنے کیلئے بڑے اقدامات، آبپاشی نظام میں مرمت اور درستگی کا عمل تیزی سے جاری

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)مینیجنگ ڈائریکٹر سیڈا کی جانب سے کوٹری بیراج سے نکلنے والے تمام نہروں،اور شاخوں کے واٹر کورسز کے ماڈیول درست کرنے کے احکامات کے بعد مختلف آبپاشی ڈویزنوں میں ٹوٹے پھوٹے اور اوور سائز ماڈیولز کی درستگی کا کام جاری ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق خریف سیزن میں دھان سمیت دیگر فصلوں کی کاشت کے دوران پانی کی شدید قلت اور پوچھڑی علاقوں تک پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پانی کی چوری اور ضیاع کو روکا جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کی نہروں اور شاخوں کے پوچھڑی علاقوں کو آباد دیکھنے اور آبادگاروں کو ان کے حصے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ایم ڈی سیڈا منصور احمد میمن نے کوٹری بیراج سے نکلنے والی اہم نہروں اکرم واہ، لائینڈ چینل، نیو پھلیلی کینال اور اولڈ پھلیلی کینال کے تحت آنے والی تمام آبپاشی ڈویزنوں میں واٹر کورسز کے ماڈیول درست کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ان احکامات کے بعد مختلف ڈویزنوں اور سب ڈویزنوں کے افسران کی نگرانی میں اوور سائز، ٹوٹے ہوئے اور مقررہ حد سے زیادہ پانی لینے والے واٹر کورسز کی درستگی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں لائینڈ چینل آبپاشی اکرم واہ ڈویزن سے نکلنے والی شادی سب ڈویزن کے مین کینال شادی لارج واہ اور بہادر واہ پر بھی خصوصی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ سب ڈویزنل آفیسر شاکر حبیب میمن کی ہدایات پر داروغہ حاجی محمد اسلم کھوسو، داروغہ حق نواز کھوسو، داروغہ اعجاز علی کھوسو اور دیگر لوئر اسٹاف اپنی ٹیموں کے ہمراہ شاخوں کے ہیڈ سے لے کر پوچھڑی تک ایسے واٹر کورسز کی مرمت اور درستگی کے کام میں مصروف ہیں جو مقررہ حد سے زیادہ پانی لے رہے تھے یا نہر کے نظام کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ ایس ڈی او آبپاشی شاکر حبیب میمن نے میڈیاکوبتایا کہ خریف سیزن میں دھان کی فصل کی کاشت شروع ہونے کے باعث پانی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی سیڈا منصور احمد میمن کی ہدایات پر پانی کی چوری روکنے، ضیاع کم کرنے اور پوچھڑی علاقوں تک پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی آبادگار یا زمیندار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی اور تمام کسان پانی کی کمی بیشی میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوٹری بیراج پر ضرورت کے مطابق پانی دستیاب نہیں، جس کے باعث محکمہ آبپاشی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم عملہ دن رات محنت کر رہا ہے تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ دوسری جانب خشک نہروں اور شاخوں کے پوچھڑی علاقوں کے زمینداروں، آبادگاروں اور ہاریوں نے ان اقدامات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب ان کی زمینوں تک بھی پانی پہنچ سکے گا اور زرعی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی



