لاہور کے ارب پتی سرپرست بے نقاب’’پنکی ڈان‘‘ کی گرفتاری کے پیچھے فلمی کہانی کا پردہ چاک!

کراچی(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)منشیات کی دنیا کی بے تاج ملکہ سمجھی جانے والی ‘انمول عرف پنکی’ کے نخرے اب ختم ہو چکے ہیں اور کچہری میں پیشی کے وقت اس کی چیخیں نکل گئی ہیں۔کراچی پولیس نے ملزمہ کو بغدادی اور دیگر تھانوں میں درج 2021، 2022 اور 2025 کے مجموعی طور پر 11 مختلف مقدمات میں ریمانڈ کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ پہلی پیشی پر نہایت دیدہ دلیری اور کیٹ واک کے انداز میں آنے والی پنکی کا رخ اب بالکل بدل چکا ہے۔ عدالت کے اندر ملزمہ نے مجسٹریٹ کے سامنے دہائی دی کہ پولیس اسے شدید تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے، زبردستی من گھڑت بیانات ریکارڈ کرنے پر مجبور کر رہی ہے اور اس پر منوں کے حساب سے منشیات ڈال کر جھوٹے پرچے کاٹے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر مجسٹریٹ نے اسے تسلی دیتے ہوئے پانی پلانے کی ہدایت کی اور کارروائی آگے بڑھائی۔
کیس کی اندرونی تفصیلات پر گفتگو کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آئی ہے کہ پنکی کی اچانک گرفتاری کے پیچھے دو انتہائی بااثر اور وی وی آئی پی شخصیات کے نوجوان بچوں(ایک لڑکا اور ایک لڑکی)کی منشیات کے اوورڈوز کے باعث ہلاکت ہے۔جب ان ہلاکتوں کی خفیہ تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ بچے جس نیٹ ورک سے کوکین اور آئس منگواتے تھے، اس کاسرا پنکی ڈان سے ملتا تھا۔ اسی دباؤ کے تحت اسے لاہور سے خفیہ طور پر اٹھایا گیا،لیکن کراچی پولیس نے گرفتاری کا پوراایک ٹوپی ڈرامہ اور فلمی منظر نامہ تیار کیا جس میں وہ مسکراتے ہوئے فلیٹ کا دروازہ کھول کر پستول برآمد کروا رہی تھی،تاکہ اس کے اصل سرپرستوں کو بچایا جا سکے۔
عدالت کی راہداری سے سامنے آنے والی نئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس نے پنکی کے منہ پر کپڑا ڈالا ہوا ہے، جبکہ وہ زبردستی کپڑا ہٹا کر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے چیخ چیخ کر اپنی بے گناہی اور22دن سے غیر قانونی حراست میں رکھنے کے الزامات لگا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک لاہور اور دیگر شہروں میں بیٹھے ان ارب پتی "پروٹیکٹرز”اور بااثر سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا—جو اس زہر کے اصل سوداگر ہیں—تب تک فیکٹری بند نہیں ہوگی اور مارکیٹ میں پنکی کی جگہ کوئی نیا چہرہ لے آئے گا۔




