دنیا بھرمیں موجود لاکھوں فلسطینی آج یوم نکبہ منا رہے ہیں

لندن(جانوڈاٹ پی کے)دنیا بھرمیں موجود لاکھوں فلسطینی آج یوم نکبہ منا رہے ہیں۔
یوم نکبہ 1948 کی جنگ اور اسرائیل کے قیام کے دوران تقریباً ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کی ان کی آبائی زمینوں اور گھروں سے جبری بے دخلی اور ہجرت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
فلسطینی اس بے دخلی اور اس دوران ہونے والے قتل عام کو ایک بڑے المیے سے تعبیر کرتے ہیں اور نکبہ کا مطلب بھی یہی ہے۔ یوم نکبہ ہر سال 15 مئی کو منایا جاتا ہے۔
تاریخی اندازوں کے مطابق 1947 سے 1949 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار فلسطینی، جو اُس وقت کی آبادی کا ایک تہائی تھے، اپنے گھروں سے نکال دیے گئے، جبکہ 400 سے زائد دیہات اور شہری علاقے خالی کروائے گئے یا تباہ کر دیے گئے۔
آج بھی لاکھوں فلسطینی مہاجرین مغربی کنارے، غزہ، اردن، لبنان اور شام کے کیمپوں میں مقیم ہیں، اور اپنے گھروں کی چابیاں اور دستاویزات سنبھال کر رکھتے ہیں جو ان کی واپسی کی امید کی علامت ہیں۔
رواں سال یوم نکبہ ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اورایک محدود علاقے میں محصور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے 6 ماہ بعد بھی غزہ کی آبادی بحیرہ روم کے کنارے واقع 40 کلومیٹر طویل پٹی کے نصف سے بھی کم حصے میں سمٹ کر رہ گئی ہے جبکہ باقی علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
فلسطینی مہاجرین مسلسل اپنے حقِ واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 194 میں شامل ہے اور اسرائیل-فلسطین تنازع کے اہم ترین حل طلب مسائل میں سے ایک ہے۔
فلسطینیوں کے لیے غزہ میں جاری جنگ اور مسلسل بے دخلی اس بات کا ثبوت ہے کہ نکبہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری عمل ہے۔



