پنکی اسلام آباد،پنجاب میں بھی آپریٹ کر رہی تھی،سندھ کے وزیر داخلہ کا انکشاف

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ پنکی سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے کہا ہے کہ پنکی اسلام آباد اور پنجاب میں بھی آپریٹ کر رہی تھی اور اس کے گاہکوں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی بلال جدون نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ میرے حلقے پی ایس-109 ہجرت کالونی میں منشیات سرعام فروخت ہو رہی ہے، ریلوے ٹریک پر کھل عام منشیات فروخت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپئر روڈ پان منڈی پر منشیات سے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے، پنکی کہہ رہی میں باہر آجاؤں گی وہ ہمارے نظام پر ہنس رہی ہے اور پنکی کا عدالت میں پروٹوکول ہمارے سسٹم کے منہ پر طماچہ ہے۔سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ پنکی کو گرفتار کیا ہے اس کے لیے تعریف کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پنکی کو پروٹوکول دینے والے پولیس افسران کو معطل کیا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت پڑے تو گرفتار بھی کروں گا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس نے انٹیلجنس ادارے کی مدد سے پنکی کو گرفتار کیا، پنکی کا دوبارہ ریمانڈ لیا ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہو رہی ہیں۔
ضیا لنجار نے کہا کہ ہمارے گھروں اور بچوں تک چیزیں آگئی ہیں، نئی نسل تباہ و برباد ہوگئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ چیزیں ٹھیک ہوں اور ہم اس کیس کو رول ماڈل بنائیں گے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ پنکی پنجاب اور اسلام آباد میں بھی آپریٹ کر رہی تھی، ان گاہکوں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں، کسی کے اوپر کیچڑ نہ اچھالیں۔
سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات کی خرید و فروخت باعث تشویش ہے، ہم نے سخت سے سخت مہم چلائی، میں جب ایکسائز کا وزیر تھا تو کہا تھا ہر رکن صوبائی اسمبلی اپنے آپ کو نارکوٹکس کا وزیر سمجھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے کہا منشیات سندھ کا مسئلہ ہے لیکن یہ مسئلہ صرف سندھ کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے، ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کرے۔



