امریکی نمرود کے لیے ایرانی مچھر تیار: آبنائے ہرمز میں موت کا رقص شروع”

خلیج فارس: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نہایت سنسنی خیز رخ اختیار کر لیا ہے جب دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل امریکی بحریہ کو ایرانی "مچھر بیڑے” (Mosquito Fleet) نے شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی نمرود کہلانے والی سپر پاور کے سامنے ایران نے اپنی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کے تحت ہزاروں کی تعداد میں ایسی تیز رفتار چھوٹی کشتیاں تیار کر لی ہیں جو جدید میزائلوں، تارپیڈوز اور بارودی سرنگوں سے لیس ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ کشتیاں سمندر میں ایک "مچھروں کے جھنڈ” کی طرح حملہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے امریکی بحری جہازوں کا دفاعی نظام ‘ایجز’ الجھ کر رہ جاتا ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ کس مچھر کو پہلے مارا جائے۔ اس خطرناک صورتحال کے بیچ خلیجِ فارس میں پرواز کرنے والے جدید ترین امریکی سٹیلتھ طیارے F-35 کو ایرانی الیکٹرانک وارفیئر نے ایسا بے بس کیا کہ طیارے کے تمام ریڈار اور سسٹمز جام ہو گئے، جس کے بعد پائلٹ کو ہنگامی کوڈ جاری کر کے متحدہ عرب امارات کی ایئربیس پر گرتے پڑتے لینڈنگ کرنا پڑی۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے اسرائیل کی اس خفیہ ایئربیس کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے جو عراق کے تپتے صحرا میں ایران پر حملوں کے لیے خاموشی سے تیار کی گئی تھی۔ ایران نے ابنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کی دھمکی دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کے تجارتی جہازوں کو چھیڑا گیا تو وہ اسے براہِ راست اعلانِ جنگ سمجھے گا، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
صحافی: معظم فخر
وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:




