ورلڈ تھیلسیمیا ڈے: بدین میں آگاہی سیمینار و ریلی، بیماری سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کرنے پر زور

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)ورلڈ تھیلسیمیا ڈے کے موقع پر منو بھائی تھیلسیمیا کیئر سینٹر بدین میں آگاہی سیمینار اور ریلی کا انعقاد ورلڈ تھیلسیمیا ڈے کے موقع پر منو بھائی تھیلسیمیا کیئر سینٹر بدین میں ایک پروقار آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں تھیلسیمیا سے متاثرہ بچوں کی بہتر نگہداشت، بیماری سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور عوامی شعور اجاگر کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ سیمینار میں سرکاری افسران، ڈاکٹرز، سماجی شخصیات صحافیوں، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی سمینار کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اب صرف تھیلسیمیا کے مریضوں کو سامنے لانا کافی نہیں بلکہ ایسے افراد کی بھی نشاندہی کی جائے جو اس بیماری کے کیریئر ہیں مگر ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی۔ مقررین نے کہا کہ معاشرے میں آگاہی کی کمی کے باعث ہر سال معصوم بچے اس موروثی مرض کا شکار ہو رہے ہیں، جس کی روک تھام صرف احتیاطی تدابیر اور بروقت ٹیسٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے منو بھائی تھیلسیمیا کیئر سینٹر بدین کے سربراہ ڈاکٹر محمد ہارون میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ادارہ تھیلسیمیا کے شکار بچوں کے علاج، خون کی فراہمی، ادویات اور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی کوشش ہے کہ بدین ضلع میں تھیلسیمیا سے متعلق آگاہی ہر گھر تک پہنچائی جائے تاکہ مستقبل میں اس بیماری کے کیسز میں کمی لائی جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ بدین پولیس، ریونیو، ڈسٹرکٹ کونسل کے ملازمین، طلبہ اور دیگر طبقات کے تھیلسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ ایسے افراد کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکے جو لاعلمی میں اس بیماری کے کیریئر ہیں ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھیلسیمیا ایک ایسا مرض ہے جس کا مکمل علاج تاحال ممکن نہیں، تاہم بروقت آگاہی، مستقل علاج، مناسب کیئر اور خون کی دستیابی کے ذریعے مریض بچوں کو بہتر زندگی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدین پولیس انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت ہمیشہ فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہے اور تھیلسیمیا کے مریض بچوں کی مدد کے لیے بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کریں کیونکہ ایک خون کا عطیہ کسی معصوم بچے کی زندگی بچانے کا سبب بن سکتا ہے
ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے کہا کہ تھیلسیمیا سے بچاؤ کے لیے شادی سے قبل اسکریننگ ٹیسٹ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی شادی سے پہلے تھیلسیمیا ٹیسٹ ضرور کروائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس مرض سے محفوظ بنایا جا سکے
انہوں نے کہا کہ نکاح خواں حضرات بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور نکاح سے قبل تھیلسیمیا ٹیسٹ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تھیلسیمیا سے متعلق مزید آگاہی پروگرامز، سیمینارز اور واکس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو سکے
ڈاکٹر طفیل احمد چانڈیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے مسلسل آگاہی، جدید طبی سہولیات، اسکریننگ سسٹم اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے تھیلسیمیا پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ CVS ٹیسٹ کے ذریعے دورانِ حمل بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہے، جس سے متاثرہ بچوں کی پیدائش کو روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی اور راولپنڈی کے بعد بدین کا منو بھائی تھیلسیمیا کیئر سینٹر بھی ایک اہم اور فعال ادارہ بن چکا ہے، جہاں مریض بچوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور تمام اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کی مالی اور اخلاقی معاونت کریں تاکہ مزید بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں اس موقع پر ڈاکٹر محمد ہارون میمن نے بدین پولیس کی جانب سے منو بھائی تھیلسیمیا کیئر سینٹر میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کے انعقاد کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ خون کا عطیہ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے اور معاشرے کے ہر فرد کو اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے سیمینار کے دوران مقررین نے تھیلسیمیا سے متعلق اہم نکات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں
تھیلسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے شادی سے قبل تھیلسیمیا ٹیسٹ اس بیماری کی روک تھام کا مؤثر ذریعہ ہے تھیلسیمیا کے مریض بچوں کو ہر ماہ خون کی ضرورت پیش آتی ہے خون کا عطیہ دینا انسانی جان بچانے کے مترادف ہے بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر سے تھیلسیمیا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
* عوامی آگاہی اس بیماری کے خاتمے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
سیمینار میں ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی، ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی، ڈاکٹر محمد ہارون میمن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ظہور احمد عباسی، وائس چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل بدین فدا حسین مندھرو، ڈاکٹر عبدالرشید، ڈاکٹر عباس علی شاہ، ڈاکٹر طفیل احمد چانڈیو، ڈاکٹر محمد عثمان سومرو، وفا لطیف جوکھیو، صحافی حضرات، سماجی شخصیات، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی آخر میں مقررین نے ڈاکٹر محمد ہارون میمن اور ان کی ٹیم کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تھیلسیمیا کے خلاف آگاہی اور انسانی خدمت کا یہ مشن مشترکہ کوششوں سے جاری رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایک صحت مند اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے
قبل از تھیلسیمیا کے موذی مرض سے بچاؤ کیلئے آگاھی ریلی نکالی گئی۔



