تھرپارکر،گودھیار کے دوگروہوں میں جھگڑا،بچوں سمیت13افراد زخمی،دیہاتی کا خودسوزی کا اعلان

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)مٹھی کے قریب گاؤں گودھیار میں سومرابرادری کے دو گروہوں کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں ایک فریق پر سیدھی فائرنگ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 13 افراد زخمی ہوگئے، جن میں چار معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو سول اسپتال مٹھی منتقل کیا گیا، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں حیدرآباد ریفر کردیا گیا۔

واقعے کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ہر طرف چیخ و پکار اور افراتفری کی صورتحال دیکھی گئی۔

واقعے کے خلاف متاثرہ فریق کے افراد مٹھی پہنچے اور انتہائی خطرناک دھوپ میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے، جہاں پولیس حکام اور سندھ اسمبلی کے رکن فقیر شیر محمد بلالانی بھی پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کرتے ہوئے انصاف کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی اور سراج سومرو نے معاملے کو جھگڑے کی شکل دے دی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں اور خواتین پر بھی فائرنگ کی گئی، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔

دھرنے کے دوران ایک نوجوان مولوی نے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ خود کو آگ لگا لے گا۔

مظاہرین نے مزید بتایا کہ ان کا نوجوان شمس ولد قمر، جو گزشتہ روز عدالت کے باہر جھگڑے کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا، تاحال واپس نہیں آیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے فقیر شیر محمد بلالانی نے کہا کہ متاثرین کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کی کہ کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے، اگر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہوئی تو وہ خود بھی مظاہرین کے ساتھ دھرنے میں بیٹھیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button