سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار پر اہم فیصلہ جاری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق اہم اور تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے آئینی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے، تاہم آرٹیکل 189 کسی عدالت کو دوسری عدالت کا ماتحت نہیں بناتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانے سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے ایسے مقدمات کو الگ الگ فورمز پر سنا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق آئینی نوعیت کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی جبکہ ریگولر اور سول اپیلیں سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار میں رہیں گی۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی، جبکہ عام سول اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت رہیں گی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹس کے آئینی فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی، جبکہ بعض معاملات جیسے کرایہ داری اور خاندانی کیسز اس دائرۂ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

عدالت نے توہین عدالت سے متعلق اصول بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اختیار متعلقہ عدالت کے وقار اور عملداری سے جڑا ہے، اور خلاف ورزی پر کارروائی وہی عدالت کرے گی جس کا حکم متاثر ہوا ہو۔

سپریم کورٹ نے مختلف کلب شدہ مقدمات کو الگ کرنے اور آئینی درخواستوں کو متعلقہ فورمز پر منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button