زکربرگ کا ‘بائیوہب’: انسانیت کی خدمت یا انسانی جسم پر قبضے کی ہولناک دجالی سازش؟

نہال معظم
مارک زکربرگ اور پریسیلا چن کی جانب سے شروع کیا گیا سائنسی منصوبہ "بائیوہب” محض ایک طبی تجربہ گاہ نہیں بلکہ حیاتیاتی دنیا کا وہ "گوگل میپ” تیار کرنے کی کوشش ہے جس کی منزل اس صدی کے اختتام تک تمام انسانی بیماریوں کا خاتمہ ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ منصوبہ واقعی انقلابی ہے کیونکہ پہلی بار مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے ذریعے انسانی خلیات کا تجزیہ اس رفتار سے کیا جا رہا ہے جو ماضی میں ناقابلِ تصور تھا۔ یہ پیش رفت کینسر، الزائمر اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج میں نئی راہیں کھول سکتی ہے، لیکن اس عظیم الشان وژن کے پیچھے "ڈیٹا کی حکمرانی” کا وہ تزویراتی مفاد بھی چھپا ہے جو مستقبل کی دنیا میں طاقت کا توازن بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کا سب سے اہم اور فکر انگیز پہلو "ڈیٹا اثر و رسوخ” ہے۔ میٹا کے ذریعے دنیا کی آدھی آبادی کا سماجی ڈیٹا پہلے ہی زکربرگ کی دسترس میں ہے اور اب بائیوہب کے ذریعے وہ انسانی جسم کے اندرونی نقشوں، جینیاتی کوڈز اور خلیاتی ڈیٹا کے مالک بننا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو کسی بھی حکومت یا فوج سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جس کے پاس انسانی صحت کا مکمل ڈیٹا ہوگا، مستقبل کی دنیا کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہوگی۔ زکربرگ کا مقصد خود کو ایک ایسے مسیحا کے طور پر منوانا ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے موت اور بیماری کو شکست دے سکتا ہے، جس سے ان کا سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ عالمی سطح پر ناقابل تسخیر ہو جائے گا۔
تاہم، اس تصویر کا ایک رخ وہ بھی ہے جو اسے محض ایک سازش قرار دینے کے بجائے ایک پیچیدہ سائنسی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بایومیڈیکل ریسرچ سخت عالمی قوانین، اخلاقی اصولوں اور حکومتی نگرانی کے تحت ہوتی ہے جہاں ڈیٹا کو عموماً گمنام رکھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، ڈرگ مافیا اور بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے یہ منصوبہ کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔ ان کا پورا کاروباری ماڈل مریض کو طویل عرصے تک ادویات کا محتاج رکھنے پر ٹکا ہوا ہے، جبکہ بائیوہب کا وژن بیماری کو جڑ سے ختم کرنے یا اس کی قبل از وقت روک تھام کا ہے۔ اگرچہ بڑی کمپنیاں خود بھی اے آئی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، مگر ڈیٹا کے عام ہونے (Open Source) سے ان کی اجارہ داری کو سخت دھچکا لگ سکتا ہے۔
اس منصوبے کے جہاں مثبت اثرات انسانیت کے لیے شفا کا پیغام ہیں، وہیں چند ہولناک خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ "حیاتیاتی عدم مساوات” کا ہے، جہاں جدید ترین علاج صرف امیر طبقے تک محدود رہ جائے اور غریب محض ڈیٹا فراہم کرنے کا خام مال بن کر رہ جائیں۔ اس کے علاوہ پرائیویسی اور بائیو سیکیورٹی کے پہلو بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ جینیاتی ڈیٹا کا غلط استعمال انسانی نسل کے لیے ایٹم بم سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ حقیقت میں یہ طاقت کی ایک ایسی نئی سمت ہے جس کا انحصار اس کے استعمال پر ہوگا۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ” بائیوہب "شفا بانٹتا ہے یا پھر ڈیجیٹل غلامی۔۔۔



