بدین،آفس سپرنٹنڈنٹ کے قریبی کوویکسی نیٹرزکا انچارج مقرر کر دیا

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)بدین میں سینئر ویکسینیٹرز کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈی ایچ او آفس کے آفس سپرنٹنڈنٹ کے قریبی ایک ویکسینیٹر کو ویکسینیٹرز کا انچارج مقرر کر دیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مذکورہ انچارج نے ویکسینیٹرز پر ماہانہ بھتہ مقرر کر رکھا ہے اور بھتہ نہ دینے والوں پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف ویکسینیٹرز نے ڈی ایچ او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور علامتی بھوک ہڑتال کرتے ہوئے انچارج کو ہٹانے کی تحریک چلانے کا انتباہ دیا تفصیلات کے مطابق بدین میں ویکسینیٹرز کے انچارج غلام حسین سومرو کے خلاف ویکسینیٹرز عرفان میمن، عنایت جونیجو، گلزار بھرگڑی، نادر خواجہ، غلام حسین خاصخیلی اور دیگر کی قیادت میں ڈی ایچ او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے چار گھنٹے تک علامتی بھوک ہڑتال کی اور شدید نعرے بازی بھی کی اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ ڈی ایس وی غلام حسین سومرو کو غیر قانونی طور پر انچارج مقرر کیا گیا ہے، جو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ویکسینیٹرز کو ہراساں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتے آئے ہیں، مگر ہمیں ڈیوٹی نہ کرنے کے الزامات لگا کر ماہانہ بھتہ طلب کیا جا رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایچ او ڈاکٹر ظہور عباسی نے انہیں غیر قانونی طور پر انچارج مقرر کیا ہے، اور اب وہ اپنے عہدے کے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے نجی افراد کے ذریعے ویکسینیٹرز کو ہراساں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دلوا رہا ہے۔
ویکسینیٹرز نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ایچ او کے غیر قانونی حکم پر کام کرنے والے غلام حسین سومرو کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور ویکسینیٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر پیر کے روز بدین میں اور اس کے بعد پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے۔



