تھر میں آگ، آسمانی بجلی اور خودکشیوں کو آفت قرار دیا جائے، متاثرین کی فوری بحالی کی جائے: تھری عوام

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی) تھری عوام کے سرپنچ پنہوں میگھواڑ، جنرل سیکریٹری جگمال بھیل اور برادری کے امین بھگت راسا رام، عبد چوہان، لچھمن داس، موہن لال، سانوڻ سینڈھل اور ملہار تھری نے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ تھرپارکر میں آگ لگنے کے واقعات انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں، لیکن انہیں آفت قرار نہ دینا سرکاری نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں گوڑھیار، لسیو، مہنتار، ہریار اور دیگر کئی دیہات میں سیکڑوں گھر جل کر خاک ہو چکے ہیں، جن کے ساتھ مویشی، باڑے، اناج، نقد رقم، سونا، بستر اور دیگر تمام وسائل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ متاثرہ خاندان آج بھی کھلے آسمان تلے شدید گرمی، بھوک اور پیاس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ تھر اس وقت آگ، خودکشیوں، آسمانی بجلی اور ماحولیاتی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، لیکن ان آفات سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح سرکاری منصوبہ موجود نہیں۔ 21 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے تھر کے دو ہزار سے زائد دور دراز دیہات کے لیے صرف سات شہری آبادیوں میں محدود فائر بریگیڈ اور عملہ رکھنا ناکافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر یونین کونسل سطح پر دو فائر بریگیڈ قائم کیے جائیں، ہر گاؤں میں ارتھ راڈ نصب کی جائیں، خودکشیوں کے اسباب پر تحقیق کی جائے اور دیہی سطح پر روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تھر کے غریب لوگ بارشوں کی فصلوں اور مویشیوں پر گزارا کرتے ہیں اور ساری عمر کی جمع پونجی سے گھر، مال مویشی اور بیٹیوں کے جہیز کا انتظام کرتے ہیں، لیکن ایک ہی آگ میں ان کا سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، جبکہ ازالے کے لیے کوئی موجود نہیں۔ برادری رہنماؤں نے مزید کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 200 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، ہزاروں مویشی، درخت اور پودے جل چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں سیکڑوں افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ کوئلے کے منصوبوں کے باعث زمینوں کی بے دخلی، بے روزگاری اور بدحالی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تھر کول منصوبوں سے متاثرہ گاؤں تھاریو ہالیپوٹو، نیو سینہری درس، وروائی، تلوايو، بھاوی جو تڑ، کھاریو غلام گوڑاڻو سمیت 50 سے زائد دیہات کی 40 ہزار سے زائد آبادی کی نقل مکانی، پانی، ثقافت، سماجی زندگی، راستوں، چراگاہوں اور جنگلی حیات پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ پریس بیان میں کہا گیا کہ تھر راجونی عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد دیہات تک وسیع کرے گی، متاثرہ افراد کی بحالی، جل جانے والے اثاثوں کے معاوضے، فائر بریگیڈ کے قیام اور دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔ آخر میں انہوں نے سندھ اور ملک کے باشعور حلقوں سے اپیل کی کہ تھر پر ہونے والے مظالم اور نقصانات کے خلاف آواز بلند کریں اور متاثرہ افراد کا ساتھ دیں۔

مزید خبریں

Back to top button