جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس شروع: ججز تبادلوں پر پی ٹی آئی کا احتجاج، گرما گرم بحث متوقع

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس سپریم کورٹ میں شروع ہو گیا، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کے تبادلوں کا معاملہ زیر غور ہے۔ اجلاس کے آغاز سے قبل کمیشن کے اراکین بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر اجلاس میں شرکت کے لیے سپریم کورٹ پہنچے۔

اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی اور ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف نے اجلاس میں ججز کے تبادلوں کے معاملے پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے سامنے اپنے تحفظات رکھیں گے اور ججز کے تبادلوں کا معاملہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ ججز کے تبادلے سے قبل ان کی رائے لینا لازمی ہے، تاہم موجودہ حالات میں عدلیہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کے باوجود اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ 4 برس میں اداروں کی ساخت متاثر ہوئی ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ججز کے تبادلے سے قبل باقاعدہ قواعد و ضوابط بنائے جانے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس بابر ستار کا خط درست مطالبات پر مبنی ہے اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مؤقف کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس سے قبل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور سربراہ کمیشن خط لکھا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی بھی جج کے تبادلے سے قبل اسے سنا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار کا نام بھی ان ججز میں شامل ہے جن کے تبادلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ دیگر زیر غور ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ابتدائی طور پر اس اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی، تاہم 5 اراکین کی ریکوزیشن پر اجلاس طلب کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button