ایران دو گروہوں میں تقسیم: ایلون مسک کی پاکستان میں بڑی دلچسپی

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے اپنی حتمی شرائط تحریری طور پر پاکستانی حکام کے حوالے کر دی ہیں، جو کہ جلد ہی اسلام آباد پہنچنے والے امریکی وفد (جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں) کے سامنے رکھی جائیں گی۔

​تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت میں اس وقت دو گروہ پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو کشیدگی کو جاری رکھنے کے حق میں ہے اور دوسرا اعتدال پسند گروہ جو مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ عباس عراقچی کا تعلق اسی اعتدال پسند گروہ سے ہے جنہوں نے پہلے ابنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "ناکہ بندی” برقرار رکھنے کے بیان کے بعد صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہو گئی ہے۔ پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں نہ صرف امریکہ بلکہ روس اور چین کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان واحد فعال پل کا کام کر رہا ہے۔

​دوسری جانب، پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات بھی خبروں کی زد میں ہیں۔ پی ٹی آئی کے آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ جلسے اور عدلیہ میں ممکنہ آئینی ترامیم کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عدلیہ کو سیاسی مداخلت کے بجائے آئین کے تابع ہونا چاہیے تاکہ ملک میں استحکام آ سکے۔ اس کے علاوہ، ٹیکنالوجی کی دنیا سے بھی ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایلون مسک ایک اے آئی اسٹارٹ اپ کو خریدنے یا اس کے ساتھ 60 ارب ڈالر کا مشترکہ منصوبہ شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

​علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مزید تفصیلات کے لیے صحافی عمران شفقت کا یہ وی لاگ اس لنک پر دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button