طاہر اشرفی کی شامت اور مظفر آباد میں پی ٹی آئی کا ناکام جلسہ

لندن/مظفر آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنی فیملی کے ہمراہ نجی وقت گزار رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کے ایک گروہ نے انہیں گھیر لیا اور ان پر سخت تنقید کے ساتھ ساتھ فوج اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ مولانا طاہر اشرفی نے ان حملوں کا جواب دیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس طرح کی ٹرولنگ اور نجی زندگی میں مداخلت پر بحث چھڑ گئی ہے۔
دوسری جانب، آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں پی ٹی آئی کو اس وقت شدید سیاسی دھچکا لگا جب ریاست میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ پہلا جلسہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، جنہیں اس مہم کی قیادت سونپی گئی تھی، کی موجودگی کے باوجود جلسہ گاہ میں کرسیاں خالی رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، جلسے کے لیے محض 1100 کے قریب کرسیاں لگائی گئی تھیں جو کہ آغاز سے اختتام تک خالی رہیں، جس سے پارٹی کی عوامی مقبولیت اور تنظیمی ڈھانچے پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مظفر آباد کے جلسے کی یہ ناکامی پی ٹی آئی کے لیے ایک "لیٹمس ٹیسٹ” ثابت ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف سوشل میڈیا ہائپ اور ٹرولنگ کے ذریعے زمینی حقائق اور انتخابی نتائج کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں موجود خلا کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ جب وہ حقیقی عوامی میدان میں نکلتے ہیں تو ان کا ووٹ بینک اس طرح متحرک نظر نہیں آتا جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جاتا ہے۔
صحافی معظم فخر کی یہ بریکنگ نیوز اور مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:




