دنیا کی بلند ترین عمارت جدہ ٹاور کی 100 منزلیں مکمل، 2028 تک تکمیل کا امکان

جدہ(جانوڈاٹ پی کے)دبئی میں موجود برج الخلیفہ 2010 سے دنیا کی بلند ترین عمارت ہے، مگر بہت جلد یہ ریکارڈ اس سے چھن جائے گا۔
سعودی عرب کا جدہ ٹاور تیزی سے تعمیراتی مراحل سے گزر رہا ہے اور اب اس کی 100 منزلیں تعمیر کرلی گئی ہیں۔
2013 میں جدہ ٹاور کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا مگر کئی برس سے کام رکا ہوا تھا۔
مگر 2025 میں جدہ ٹاور کا تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا اور جب یہ عمارت مکمل ہوجائے گی تو یہ دنیا کی بلند ترین عمارت قرار پائے گی جس کی بلندی 3280 فٹ تک ہوگی۔
یہ دنیا کی پہلی عمارت ہوگی جس کی بلندی ایک کلو میٹر سے زائد ہوگی۔
خیال رہے کہ 163 منزلہ برج الخلیفہ کی بلندی 2722 فٹ ہے۔
جدہ ٹاور کو آڈرین اسمتھ پلس گورڈن گل (اے ایس پلس جی جی) نامی کمپنی تعمیر کر رہی ہے اور اس کے ایک ترجمان نے جدہ ٹاور کی نئی تصاویر کو شیئر کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برج الخلیفہ کو بھی آڈرین اسمتھ نے ہی ڈیزائن کیا تھا۔
ترجمان کے مطابق جدہ ٹاور کی 100 منزلوں کو رواں ہفتے مکمل کرلیا گیا۔
کمپنی کے منیجنگ پارٹنر بوب فارسٹ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ جدہ ٹاور کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور 100 منزلوں کی تعمیر کا سنگ میل طے کرلیا گیا ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ جدہ ٹاور کی تعمیر اگست 2028 تک مکمل ہونے کا امکان ہے اور اب تک اس کی 50 فیصد سے زائد تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔
یہ عمارت ایک ہوٹل، اپارٹمنٹس، دفاتر، آؤٹ ڈور ڈیک اور دیگر تعمیرات سے لیس ہوگی جبکہ اس میں دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک بھی موجود ہوگا۔
اتنی بلند عمارت کے لیے دنیا کا بہترین لفٹ سسٹم درکار ہوگا اور اس کے اندر 59 لفٹیں موجود ہوں گی۔
ان میں سے 54 سنگل ڈیک جبکہ 5 ڈبل ڈیک پر مشتمل ہوں گی جبکہ 12 escalators بھی موجود ہوں گی۔
جدہ ٹاور کی رات کے وقت لی گئی تصاویر / فوٹو بشکریہ اے ایس پلس جی جی
عمارت کی باہری دیوار کا سسٹم کچھ ایسا ہوگا کہ اندر توانائی کی ضرورت کم از کم ہوگی۔
خیال رہے کہ برسوں کی تاخیر اور مالیاتی مسائل کے باعث جدہ ٹاور کا کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔
اس کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں سامنے آیا اور تعمیراتی کام 2013 میں شروع ہوا۔
2018 میں تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا اور کووڈ 19 کی وبا کے باعث دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا
2018 میں جب اس کی تعمیر روکی گئی تھی تو ایک تہائی عمارت مکمل کرلی گئی تھی۔
جدہ ٹاور کی تعمیر پر 1.2 سے 2.7 ارب ڈالرز خرچ ہونے کا امکان ہے۔



