21 دسمبر کو لاڑکانہ میں عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کی جانب سے احتجاجی ریلی کا اعلان

مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے مٹھی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلاول-شہباز اتحادی حکومت 27ویں ترمیم منظور کرکے ننگی آمریت مسلط کرچکی ہے، اور اب 28ویں ترمیم لاکر سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کی جارہی ہے، مگر سندھی قوم یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ پرامن جمہوری جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ حکومت کو 27ویں آئینی ترمیم، بورڈ آف انویسٹمنٹ ایمنڈمنٹ ایکٹ، پیکا ترمیم سمیت تمام سیاہ قوانین واپس لینا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایف آئی آر سے نہیں ڈرتے۔ پولیس جعلی مقدمات قائم کرکے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ صرف 500 مظاہرین تھے جو پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث تنگ گلیوں میں بھاگ گئے۔ وسند تھری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تابع سندھ پولیس بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سندھیانی تحریک کی بہادر بہنوں کے وطن کی حفاظت کے نعروں کی گونج سے پولیس لاٹھیوں اور بندوقوں سمیت خود ہی بھاگ گئی۔ سندھیانی تحریک نے اپنا پرامن احتجاج بھرپور طریقے سے ریکارڈ کروایا، کوئی شخص جیلوں اور تھانوں سے نہیں ڈرتا۔ ہم اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے جیل جانے کو تیار ہیں، چاہے ہمیں گرفتار ہی کیوں نہ کیا جائے۔ اور ریلی میں 500 نہیں بلکہ 10 ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سات کروڑ سندھیوں کی روح سندھیانی تحریک کی باشعور بہنوں میں موجود ہے۔ اب آپ نئے جیل بنائیں، سات کروڑ سندھیوں کو کہاں بند کریں گے؟ ہم پہلے بھی جیل بھرو تحریکیں چلا چکے ہیں اور اب بھی تیار ہیں۔ ضیاء الحق کے مارشل لا میں بھی ایک بھی سندھیانی نے معافی لے کر جیل نہیں چھوڑی۔ رسول بخش پلیجو صاحب 8 سال سے زیادہ جیل میں رہے۔ عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کے کارکنوں کو جیلوں اور تھانوں کی کوئی پروا نہیں۔ سندھ دھرتی اور دریائے سندھ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس کے لیے ہم ہر وقت ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھیانی تحریک پر کبھی بھی کسی نام نہاد جمہوری یا آمرانہ دور میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پورے سندھ میں سندھیانی تحریک نے احتجاج کیے مگر ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ بلاول زرداری کی جانب سے سندھیانی تحریک کی بہنوں پر ایف آئی آر درج کروانے سے ثابت ہوتا ہے کہ بلاول زرداری کی نام نہاد جمہوری حکومت ماضی کی تمام آمریتوں سے بدتر آمریت مسلط کر رہی ہے۔ بلاول زرداری اپنی حکومت میں اپنی والدہ کے قاتلوں کو سزا نہ دلوا سکا، تو اس حکومت سے سندھ کی بیٹیوں پر جھوٹے مقدمات کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بلاول صاحب! کیا آپ ہماری ماؤں اور بہنوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کریں گے؟ سندھ کے شہروں کو ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کے حوالے کریں گے، اور کوئی بولے گا نہیں؟ یہ آپ کی بھول ہے۔ ہمارا ہر بچہ سندھ کی وحدت، وجود اور وسائل کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرے گا، لڑے گا اور مزاحمت کرے گا۔ سندھ کی تاریخ گواہ ہے کہ سندھ نے ہمیشہ اپنی دھرتی کے لیے لڑائی لڑی ہے۔ ہم کارونجھر، کاچھو، گورک، کھیرتھر، جزیروں سمیت سندھ کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے عسکری اداروں سے جڑی کمپنیوں کو دی گئی زمینوں کی واپسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ تیل، کوئلے اور گیس پر کمپنیوں کے قبضے کے خلاف بھی جدوجہد جاری رہے گی۔ وسند تھری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا، مگر یہ تینوں چیزیں عوام سے چھین لیں۔ جمہوریت، جمہوریت کی رٹ لگانے والی پیپلز پارٹی نے جمہوریت کا قتل کرکے بدترین آمریت مسلط کردی ہے۔ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والی نون لیگ اب بوٹ کو ایکسٹینشن دو حکومت کی خدمت میں مصروف ہے۔ وسند تھری نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم، ممکنہ 28ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش، کارپوریٹ فارمنگ، نہروں اور معدنی وسائل پر قبضوں، قبائلی دہشتگردی، کاروکاری اور خواتین کے قتل کے خلاف 21 دسمبر کو لاڑکانہ میں ہزاروں خواتین و حضرات شرکت کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button