وزیرآباد:صدی پرانا ہیڈ چھناواں پل تباہ حالی کا شکار، بھاری کنٹینر پھنسنے سے مرکزی شاہراہ گھنٹوں بند

وزیرآباد(نامہ نگار) صدی پرانا ہیڈ چھناواں پل مسافروں کے لیے عذاب بن گیا۔ کنٹینر پھنسنے سے آمدورفت مکمل معطل۔ بڑے سانحے کا خطرہ بڑھ گیا۔علی پور چٹھہ اور گردونواح کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے خستہ حال ہیڈ چھناواں پل کی تباہ حالی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں تاہم گزشتہ روز پیش آنے والے تازہ واقعے نے اس پل کی خطرناکی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔ بھاری کنٹینر پل پر موجود کھڈوں اور ٹوٹے کناروں کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے پھنس گیا، جس کے نتیجے میں علی پور چٹھہ سے وزیرآباد، سیالکوٹ اور فیصل آباد کی طرف جانے والا مرکزی راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا۔انگریز دور میں تعمیر کیا گیا یہ پل تقریباً سو سال مکمل کرچکا ہے۔ اس کی بنیادیں کھوکھلی، کنارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور سڑک کھڈوں سے بھری ہوئی ہے، جس کے باعث یہ پل کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ چند روز قبل بھی ایک بھاری کنٹینر حفاظتی دیوار توڑ کر نہر میں جا گرا تھا مگر خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ مگر بار بار پیش آنے والے یہ واقعات حکومتی غفلت کا واضح ثبوت ہیں۔ ہزاروں افراد،طلبہ و طالبات، مزدور و ملازمین، کاروباری حضرات، مریض اور عام مسافر تمام کو اپنے اپنے مقامات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ پل تو ویسے ہی کھنڈر بنا ہوا ہے، اب ایسے واقعات آمدورفت کو مکمل مفلوج کر دیتے ہیں۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے احتجاج کیا کہ حلقہ پی پی 36 اور این اے 66 ہمیشہ سے ترقیاتی محرومیوں کا شکار رہے ہیں۔ منتخب نمائندے ہر انتخاب میں بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر عملی اقدام آج تک نہ ہوسکا۔عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور مقامی عوامی نمائندوں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت کسی بڑے سانحے کی منتظر ہے؟ پہلے انسانی جانیں ضائع ہوں گی، پھر فنڈ جاری کیے جائیں گے؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ بوسیدہ پل کو خصوصی گرانٹ جاری کرکے فوری ازسرِ نو تعمیر کیا جائے، تاکہ مستقل بنیادوں پر حادثات کا سلسلہ بند ہو سکے۔

مزید خبریں

Back to top button