تھرپارکر میں گندم کی شدید قلت، فوڈ انسپکٹر پر چالان کی رقم لینے کے باوجود گندم نہ دینے کے الزامات

مٹھی: (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں گندم کی قلت، بیشتر ملیں گندم کے کوٹے سے محروم، مٹھی فوڈ انسپکٹر نے چالان کی رقم لے کر گندم نہیں دی، تاجر پریشانی کا شکار، آٹا من مانی قیمتوں پر فروخت،
تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر کے سرکاری گوداموں میں گندم کی موجودگی کے باوجود محکمہ خوراک نے قلت پیدا کردی۔ جس کی وجہ سے اکثر ملوں نے آٹا پیسنا بند کر دیا ہے۔
رابطہ کرنے پر مل مالکان اشوک مہاراج، مہیش چھگالال اور دیگر میڈیا کو بتایا کہ مٹھی فوڈ انسپکٹر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اشوک مہاراج نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل میں نے فوڈ انسپکٹر کرشن لوہانو کو 2 لاکھ 80 ہزار کا چالان دیا لیکن اس نے مجھے گندم نہیں دی اور صرف دلاسے دیتے رہے۔ میں نے اپنے کوٹے کی گندم مانگی تو انہون نے بیعزتی کی اور بعد میں رقم واپس کردی لیکن مجھے گندم نہیں دی۔
مہیش چھگالال نے بتایا کہ میں نے بھی چالان کی رقم فوڈ انسپکٹر کو دی، اس نے صرف مجھے آسرا دیا، رقم واپس کرنے سے انکار کردیا، اور کہا کہ میری مل سے آٹا لے لو، باقی رقم ختم ہوچکی ہے اور اب میں فوڈ انسپکٹر کی مل سے روزانہ 10، 20 من آٹا لیتا ہوں۔
مل مالکان کا مزید کہنا تھا کہ فوڈ انسپکٹر اپنی ذاتی فلور مل اور اپنے من پسند تاجروں کو گندم دے رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوڈ حکام نے اپنے ذاتی گوداموں کو گندم سے بھر دیا ہے۔ اس کے بعد سے وہ اسے ذاتی استعمال میں لے کر کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔انہوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ہمیں گندم دی جائے اور ضلع میں آٹے کی قلت اور فوڈ حکام کی اجارہ داری ختم کی جائے۔



