بدین:لیڈی ہیلتھ ورکرز کا حقوق کیلئے تحریک چلانے کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود 30 سال حقوق سے محروم لیڈی ہیلتھ ورکرز نے ایک بار پھر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے ۔
آل لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام یونین کی مرکزی چئیرمین بشریٰ آرائیں اور مرکزی صدر نور فاطمہ نے ورکرز اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے اور اس جدوجہد میں سندھ بھر کے اضلاع اور چھوٹے بڑے شہروں کی ہماری بہادر لیڈیز ہیلتھ ورکرز شامل ہو کر اتحاد کا مظاہرہ کریں گی ۔
انہوں نے کہا کہ 30 سال گزرنے کے باوجود لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل ملازمت، سروس اسٹرکچر، پروموشن اور ریٹائرمنٹ بینیفٹس جیسے بنیادی حقوق نہیں مل سکے۔ خاتون رہنماؤں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام 1994 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے، مگر افسوس کہ آج بھی ہزاروں ورکرز عارضی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2008 میں شروع کی گئی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے 2012 میں ورکرز کو مستقل کرنے کا فیصلہ دیا، مگر سندھ حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
یونین رہنماؤں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے ملک بھر میں پولیو، ڈینگی، کورونا اور دیگر وبائی امراض کے خلاف مہمات میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر قومی خدمت انجام دی، مگر حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔انہوں نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور وفاقی وزارت صحت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کیا جائے، ان کا سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے اور واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، یونین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں مجبور ہو کر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے 13 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرے سے جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے وہ جدوجہد حقوق کے اصول تک جاری رہے گی ۔جس میں سندھ بھر کی لیڈیز ہیلتھ ورکرز اپنے اپنے علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں شرکت کریں گی . بشریٰ آرائیں، نورین صغیر اور مہوش خان نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور ان خواتین کو ان کا حق مل سکے۔ لیڈیز ہیلتھ ورکرز رہنماؤں نے نے چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس سندھ کے بھی اپیل کی کہ وہ ناانصافیوں کا شکار لیڈیز ہیلتھ ورکرز کے سال جاری زیادتیوں ناانصافیوں کا نوٹس لے کر حکومت کو معاملات اور جائز حقوق کے لئے عملی اقدامات کرنے کا پابند بنائے۔
یونین کی مرکزی چئیرمین بشریٰ آرائیں ،مرکزی صدر نور فاطمہ مرکزی جنرل سیکرٹری فرحت سلطانہ ، مرکزی رہنما مہوش خان نے بدین اور دیگر علاقوں کی لیڈیز ہیلتھ ورکرز عہدیدران راشدہ نظامانی ،زینت چانڈیو ،فرحت ، نور ، سلمہ، مہتاب، روخسانہ، اکبر، شہناز، علمی خاتون، لالا خاتون، ناہید زہرا، روخسانہ پیرزادہ، آسیہ، آسماء سے ملاقات کی ۔



