متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش سے ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے، ڈاکٹروں کی سکھر میں پریس کانفرنس

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ھورھا ھے جبکہ اس مرض سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش سے ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔
یہ بات عالمی یومِ ذیابیطس کے حوالے سے سکھر پریس کلب میں ماہر ڈاکٹرز کی جانب سے آگہی پریس کانفرنس سے خطاب میں بتائی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹرز حضرات نے ذیابیطس (شوگر) کے بڑھتے ہوئے خدشات، اس کی وجوہات، علامات، بچاؤ کی تدابیر اور علاج کے حوالے سے عوامی آگہی کیلئے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرینِ امراضِ ذیابیطس ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ غلام محمد بر میڈیکل کالج سکھر سینیئر پروفیسر ڈاکٹر افتخار علی شاہ، ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر بشیر چانڈیو، ڈاکٹر عبدالرشید دایو ، پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد سانگریو و دیگر نے عالمی سطح پر ذیابیطس سے ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کا مرض اب ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شوگر کا مرض دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس سے پیچیدہ بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا خطرناک مرض بن چکا ہے، جس سے ہر عمر کے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس مرض کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور ملک کی ایک بڑی آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا، ذہنی دباؤ اور موروثی عوامل شامل ہیں۔ اس مرض کی علامات میں مسلسل پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، غیر معمولی کمزوری، وزن میں کمی، زخموں کا دیر سے بھرنا اور نظر کی کمزوری شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذیابیطس کے مریض اگر اپنی خوراک، ادویات اور طرزِ زندگی پر قابو رکھیں تو وہ ایک صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ شوگر کے مریض روزانہ ورزش کو معمول بنائیں، میٹھی اشیاء سے پرہیز کریں اور باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کروائیں۔ ڈاکٹرز ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، متوازن غذا استعمال کریں، وزن قابو میں رکھیں اور بروقت تشخیص کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ ممکن بنائیں۔



