تھر سٹیزنز فورم نے تھر کے وسائل اور حقوق کیلئے مارچ کا اعلان کردیا

مارچ کلوئی سے شروع ہو گا اور ضلع کے تمام شہروں سے پانچ روزہ سفر کے بعد مٹھی پہنچے گا

 

مٹھی (رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)تھر سٹیزنز فورم نے 24 نومبر سے 29 نومبر تک پانچ روزہ تھر کلائمیٹ مارچ کا اعلان کیا ہے جس میں تھر کی بگڑتی ہوئی ماحولیاتی صورتحال، وسائل پر مقامی لوگوں کو روزگار کی عدم فراہمی، کوئلے اور ریلوے منصوبوں میں روزگار، زمینوں کے معاوضے کی عدم ادائیگی، متبادل آباد کاری کی عدم ادائیگی، پانی کی قلت جیسے مطالبات شامل ہیں۔

مارچ کلوئی سے شروع ہو گا اور ضلع کے تمام شہروں سے پانچ روزہ سفر کے بعد مٹھی پہنچے گا، جہاں ماہرین تھر کلائمیٹ مارچ کے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

یہ بات تھر سٹیزن فورم کے رہنمائوں چیئرمین ابھایو جونیجو، سیکرٹری جنرل عظمیٰ، اعزاز بجیر، قربان سمیجو، ڈیون بھیل اور دیگر نے مٹھی میں منعقدہ تعلقہ فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تھر سٹیزنز فورم کے اجلاس میں کہا گیا کہ تھر میں کوئلے کے منصوبوں، ریلوے لائنوں، اینٹوں کے بھٹوں، چائنہ کلے، نمک کی کانوں، کوئلے کی کانوں،م اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے تھر کا ماحول دن بہ دن خراب ہو رہا ہے جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جنگلی حیات کی حیاتیات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ پہلے جو پودے اور درخت تھے وہ اب ختم ہو گئے ہیں اور اس طرح قدرت کے حسین نظارے بھی بدل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر کول کے دو بلاکس بلاک ون اور بلاک ٹو میں سینو سندھ، شنگھائی، اینگرو کول مائننگ اور دیگر کمپنیاں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر مقامی لوگوں کو بے گھر کر رہی ہیں۔ ماضی میں گوڑانو، سنہری درس اور دیگر دیہات کے لوگ پریشان تھے اور آج وروئی، تلوایو اور دیگر دیہات کے لوگ اپنے حقوق، اپنی زمینوں کے معاوضے اور روزگار کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے گھروں کو ان کے محافظوں نے گھیر لیا ہے اور باڑ لگا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کے پراجیکٹس اور دیگر پراجیکٹس نے پانی کو زہریلا اور ختم کردیا ہے اور زمینی اور جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن کمپنیاں حکومت کے ساتھ ملی بھگت میں ہیں جس کی وجہ سے علاقہ مکین دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے کوئلے کے پراجیکٹس نے مقامی لوگوں کو بے گھر کیا تھا لیکن اب ریلوے لائن کا 105 کلو میٹر کا ٹریک بھی لوگوں کی زمینیں، درخت، پودے، گاؤں اور مکانات کو متاثر کر رہا ہے لیکن ان لوگوں کو ان کی زمینوں کا کوئی معاوضہ یا نقصان کا معاوضہ نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح تھر میں غیر رجسٹرڈ اینٹوں کے بھٹوں، کوئلے کی کان، چائنہ کلے، نمک کی کانوں نے تھر کے پانی اور زمین سمیت ماحولیات کو بھی متاثر کیا ہے، لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تھر کے معدنی وسائل کی رائلٹی مقامی لوگوں کو دی جائے اور ان کے بنیادی حقوق دئیے جائیں۔

روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے مارچ میں میچ کچہری، میوزک کنسرٹ، ملاکھڑی اور کرکٹ کے مقابلوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ دریں اثناء اسی سلسلے میں مٹھی تعلقہ تھر سٹیزن فورم کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یوتھ کوآرڈینیٹر ساجد، جاوید بجیر، مہتاب ہنجھڑو، وجے کمار، درشن، جوہر لال، ہرداس میگھواڑ اور دیگر نے شرکت کی اور تعلقہ فورم کو دعوت ناموں سمیت مختلف ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔

مزید خبریں

Back to top button