عوامی تحریک اور سندھیاٹی تحریک نے بیداری مہم شروع کر دی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے )عوامی تحریک اور سندھیاڻي تحریک نے بیداری مہم شروع کر دی۔اسی مناسبت سے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے بدین ضلع کے تعلقہ گولاڑچی کی ساحلی پٹی کے گاؤں یامین جت، آچار راجو، غلام محمد سمیجو، رمضان ملاح اور دیگر گاؤں کا دورہ کیا اور کارنر جلسے منعقد کیے۔ اس موقع پر جلسہ عام سے عوامی تحریک کے مرکزی نائب صدر ستار رند، ضلع صدر مہراڻ درس، جنرل سیکریٹری مختیار بکاري، سندھ ہاری تحریک کے ضلع صدر جاخرو نوحاڻي، غلام رسول جت، غلام علی جت، غلام محمد جتوئی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے نام پر سندھ کو ٹکڑے کرنے کی سازش کی گئی ہے اور سندھ قوم اپنی زمین کا تقسیم کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گی۔

27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے نام پر سندھ کو ٹکڑے کرنے کی سازش کی گئی

16نومبر کو سندھ کی ہزاروں خواتین، مرد، بچے اور بزرگ حیدرآباد میں جمع ہو کر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف پرامن مارچ کریں گے۔انہو نے آگے کہا کہ پورے پاکستان میں افغانوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، مگر سندھ میں پیپلز پارٹی نے رشوت کے عوض لاکھوں غیرقانونی غیر ملکیوں کو آباد کر دیا ہے۔ سندھ کے گوشے گوشے میں افغانی آباد کیے گئے ہیں اور بدین ضلعی انتظامیہ افغانوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھی مزدوروں کو جھوپڑی بنانے کے لیے پلاٹ کا ٹکڑا نہیں دیتی، جبکہ افغانیوں کے لیے سرکاری سطح پر کالونیاں اور بستیان آباد کی گئی ہیں انہو نے کہا کہ کراچی بدامنی کے کیس میں اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ افغانی دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانی مجرمان متعدد جرائم میں ملوث اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس کے باوجود سندھ حکومت افغانوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button