فلپائن میں 6.9 شدت کے زلزلے سے تباہی، 31 افراد ہلاک، عمارتیں زمین بوس، سڑکیں پھٹ گئیں

منیلا(مانیٹرنگ ڈیسک)فلپائن کے وسطی ساحلی علاقے میں منگل کے روز 6.9 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے باعث مختلف حادثات میں 31 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے آیا، زلزلے کی گہرائی 10 کلو میٹر جبکہ مرکز بوگو شہر کے شمال مشرق میں 17 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔
زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے
رپورٹس کے مطابق وسطی ساحلی علاقے میں زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے اور لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، باسکٹ بال میچ کے دوران ایک اسپورٹس کمپلیکس گر گیا، متاثرہ علاقے میں گرجا گھروں، پلوں اور سڑکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام نے سیبو میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے آج اسکولز اور سرکاری دفاتر بند کرنے کا اعلان کردیا۔
رپورٹس کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو ریسکیو کرنےکےلیے آپریشن جاری ہے، ملبہ ہٹانے کے لیے دیگر علاقوں سے بھاری مشینری روانہ کی جا چکی ہے۔
ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے اہلکار کے مطابق کچھ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی خدمات میں خلل پڑا ہے جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان روانہ کرنے کی ہدایت کردی گئی جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
زلزلے کا مرکز 90,000 آبادی والے ساحلی شہر بوگو سے 17 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز تقریباً 90,000 کی آبادی والے ساحلی شہر بوگو سے تقریباً 17 کلومیٹر (10 میل) شمال مشرق میں تھا۔اسفالٹ اور کنکریٹ کی سڑکوں میں گہری دراڑیں پڑنے سے کئی تجارتی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بوگو کے قریب دان بنتایان قصبے میں ایک پرانے رومن کیتھولک چرچ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی نے اس سے قبل سونامی کی وارننگ جاری کی تھی اور لوگوں کو محفوظ اور قریبی صوبوں لیٹے اور بلیران میں ساحلی پٹی سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی تھی
جمعہ کے دن آئے طوفان میں 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔



