امن مذاکرات بحالی کی کوشش،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایرانی سکیورٹی چیف محسن رضائی کو خط

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ محسن رضائی کو خط ارسال کرکے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت لازمی ہوگی۔

امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے خط بھیجے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ رپورٹ میں اس رابطے کو گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اہم رابطہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے خود محسن رضائی کو خط بھیجنے کی تجویز پیش کی تھی۔ محسن رضائی ایران کے اہم سکیورٹی حکام میں شمار ہوتے ہیں اور ایرانی قیادت کے ساتھ ان کے براہ راست روابط ہیں۔ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خط بھیجے جانے کے معاملے پر خاصے پُرجوش تھے، تاہم خط ارسال کیے جانے کی تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اس خط سے متعلق خبر شائع کی ہے۔

مذاکرات کی بحالی میں سخت شرائط رکاوٹ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں دونوں ممالک کی سخت شرائط بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا مذاکرات سے قبل بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرے اور تیل کی فروخت کی اجازت دے۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی سے پہلے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہوں گے۔ اس اختلاف کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔

ٹرمپ کا خط سے متعلق مؤقف

بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جے ڈی وینس کے خط کا مقصد ایران کو ضروری طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ایران میں بیمار اور متاثرہ افراد تک امداد اور ضروری اشیائے زندگی پہنچانا ہے۔

امریکی رابطے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی شرائط قبول کرے گا یا دونوں ممالک اپنے مؤقف میں نرمی پر آمادہ ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button