اوباما کو انتہائی نااہل صدر قرار دے کر ٹرمپ کا جوابی وار، ایران کو اربوں ڈالر دینے کا الزام بھی عائد کردیا

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے ایران جنگ اور اپنی پالیسیوں پر کڑی تنقید کے بعد جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں ’’انتہائی نااہل صدر‘‘ قرار دے دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل شدت اختیار کرگئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر ادا کیے اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کی راہ فراہم کی۔ انہوں نے اوباما پر ہیلری کلنٹن اور کمالہ ہیرس کی انتخابی مہم چلانے کے باوجود ان کی شکست کا بھی طعنہ دیا۔

ٹرمپ نے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی حمایت کرنے پر اوباما کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ٹرمپ اور ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے حلقے عبدال السید کو مسلم برادرہڈ سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف جہادی ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

اس سے قبل باراک اوباما نے اوہائیو کے شہر کلیولینڈ اور مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، ایران جنگ، مہنگائی اور وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر تنقید کی تھی۔

اوباما نے ایران جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے معاشی اثرات امریکی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر بدعنوانی اور غلط حکومتی ترجیحات کے الزامات بھی عائد کیے اور وائٹ ہاؤس کی سونے کی سجاوٹ کا طنزیہ انداز میں مذاق اڑایا۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے، جن میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے۔ دونوں جماعتوں کے اہم رہنما انتخابی مہم میں سرگرم ہیں اور ان کے بیانات انتخابی ماحول میں سیاسی کشیدگی کو نمایاں کر رہے ہیں۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی عوام کے اخراجات میں اضافہ ہوا، تیل اور ڈیزل مہنگے ہوئے اور ملک کو فوجی و معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اوباما نے اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں سابق ڈیموکریٹک سینیٹر شیروڈ براؤن کی حمایت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے متعدد غلط فیصلے کیے، جن میں ایک ایسی غیر ضروری جنگ شروع کرنا بھی شامل ہے جس کا نہ کسی نے مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی امریکی عوام نے اس کے لیے ووٹ دیا تھا۔

اوباما نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، امریکی شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ امریکا کے میزائلوں کے ذخائر بھی کم ہوئے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورت حال نے عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل متاثر کی، جس کا مالی بوجھ عام امریکی شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

سابق امریکی صدر نے اپنے دور حکومت میں طے پانے والے 2015 کے ایران جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے میزائل داغنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کے معاہدے سے علیحدگی کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔

اوباما نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور امیر طبقے کو ٹیکس میں دی جانے والی رعایتوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عام شہریوں کے اخراجات کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے، لیکن صدر وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش جیسے منصوبوں میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں سونے کی سجاوٹ اور دیگر تبدیلیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو گھر کی تزئین و آرائش کے پروگرام کی میزبانی کرنی چاہیے۔ اوباما نے عمارت کی آرائش کا موازنہ صدام حسین کے چیزکیک فیکٹری کھولنے سے بھی کیا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افراتفری، بدعنوانی اور نااہلی دیکھنے میں آئی ہے اور اب ووٹروں کے پاس تبدیلی کا مطالبہ کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو ایسی قیادت درکار ہے جو قانون کی پاسداری کرے اور محنت کش طبقے کے مسائل کو نظرانداز نہ کرے۔

اوباما نے اوہائیو میں ریپبلکن گورنر امیدوار وویک راماسوامی کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار پر بھی تنقید کی، جس میں ان کی ڈیموکریٹ حریف ایمی ایکٹن کی والدہ کو دکھایا گیا تھا۔ اوباما کے مطابق ایکٹن نے بچپن میں بدسلوکی، نظراندازی اور بے گھری جیسے مشکل حالات کا سامنا کیا، اس لیے ان کے ذاتی تجربات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نامناسب ہے۔

مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں خطاب کرتے ہوئے اوباما نے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کی حمایت بھی کی اور ان کے نام اور مسلم شناخت کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر اعتراض اٹھایا۔

مزید خبریں

Back to top button