کپاس کی پیداوار میں 60 فیصد کمی، کاٹن زونز میں گنے کی کاشت روکنے کا مطالبہ

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے)چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں کپاس کی بحالی اور پیداوار بڑھانے کے لیے کاٹن زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق کاٹن زونز میں گنے کی کاشت کی حوصلہ شکنی کیے بغیر کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔
اپنے بیان میں احسان الحق نے کہا کہ زوننگ قوانین پر عمل درآمد کے بعد کاٹن ریسرچ اسٹیشنز کو بہتر بنایا جائے اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی قیادت میں پاکستان کاٹن بورڈ کو قانونی حیثیت دی جائے۔ انہوں نے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی اور اس کے ذیلی اداروں کو مجوزہ بورڈ کے ماتحت کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
احسان الحق کے مطابق مقامی کپاس کی پیداوار اور معیار توقعات سے کم رہنے کے باعث کاٹن سیکٹر معاشی بحران کا شکار ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتوں میں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کی سوتر منڈی میں اربوں روپے کے مبینہ اسکینڈل سے متعلق اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں 60 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا، کپاس کے علاقوں میں گنے کی غیر معمولی کاشت اور نئی شوگر ملوں کا قیام شامل ہیں۔
احسان الحق نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی روئی اور خوردنی تیل درآمد کرنا پڑتا ہے، تاہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب تک کوئی مؤثر حکومتی حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔
ان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک سال قبل ہونے والے اجلاس میں اپٹما کی قیادت میں کاٹن بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس پر اب عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مجوزہ بورڈ میں پی سی جی اے، کراچی کاٹن ایسوسی ایشن، ایف پی سی سی آئی، نیشنل ٹیکسٹائل ایجوکیشنل کونسل، نجی سیڈ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کو نمائندگی دینے جبکہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کو اس کے ماتحت کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔



