فرانس کے ہنگامے، مغرب کا غصہ اور نشانے پر مسلمان!

نہال معظم
فرانس میں کچھ جلتا ہے تو اس کے دھوئیں میں صرف وہاں کی سڑکیں نہیں چھپتیں، بہت سے سیاسی چہرے بھی بے نقاب ہوتے ہیں۔ اس بار بھی کہانی تعلیمی مسائل سے شروع ہوئی، لیکن جلد ہی مہنگائی، بے روزگاری، عوامی سہولتوں کی کمی اور حکومت سے بڑھتی ہوئی ناراضی تک جا پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جن مسائل نے فرانسیسی شہریوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، ان کا جواب کون دے گا؟ اور کیا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اصل بحث سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلمانوں اور تارکینِ وطن کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا؟
کسی بھی ملک میں جب عام آدمی کے لیے زندگی مشکل ہوتی جائے، بچوں کے اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں اور حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے تو غصہ جمع ہونا فطری ہے۔ فرانس میں بھی تعلیمی سہولتوں کی کمی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں وسیع تر بے چینی میں تبدیل ہوئیں۔ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار نے صورت حال کو مزید خراب کیا۔ کاروبار تباہ ہوئے، شہری خوف زدہ ہوئے اور حکومت نے سخت اقدامات کیے۔ لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا گرفتاریوں اور پابندیوں سے وہ مسائل ختم ہو جائیں گے جنہوں نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کیا؟
یہاں پہنچ کر معاملہ صرف فرانس کا نہیں رہتا، بلکہ مغربی سیاست کے اس رویے کا بھی بن جاتا ہے جس میں معاشی اور سماجی بحرانوں کے دوران مہاجرین کو آسان ہدف بنا لیا جاتا ہے۔ جب اپنے ملک کے اندر مسائل ہوں تو ان کے اسباب تلاش کرنے، حکومتی فیصلوں کا جائزہ لینے اور ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے کسی کمزور طبقے کو ذمہ دار ٹھہرانا سیاسی طور پر زیادہ آسان ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ بار بار پیش آتا ہے۔ انفرادی جرم کو اجتماعی شناخت سے جوڑ دیا جاتا ہے، چند افراد کے عمل کو پوری مسلم آبادی کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے اور یوں اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
فرانس کے حالیہ ہنگاموں کے تناظر میں بھی مسلمانوں اور مہاجرین پر الزامات لگانے والے سیاسی بیانات سامنے آئے ہیں۔ مگر الزام لگانا اور الزام ثابت کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ کسی فرد نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، لیکن صرف مسلمان ہونے یا کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر لاکھوں لوگوں کو مشکوک سمجھنا کہاں کا انصاف ہے؟ یہی اصول یہودیوں، عیسائیوں اور ہر دوسری مذہبی برادری کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کسی یہودی عبادت گاہ یا دکان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کی مذمت لازم ہے؛ اسی طرح کسی مسلمان کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو اس پر خاموشی بھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کے بعض سیاسی حلقوں میں اسلام اور مسلمانوں کو سکیورٹی کے خطرے کے طور پر پیش کرنے کا رجحان پہلے ہی موجود ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بڑا واقعہ پیش آئے تو غیر مصدقہ دعوے بھی تیزی سے پھیلتے ہیں اور ان کا نقصان ان لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مسلمان شہریوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پُرتشدد ہجوم کا حصہ بننا نہ صرف اپنے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ان سیاسی قوتوں کو بھی دلیل فراہم کرتا ہے جو پہلے ہی تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسیوں کی حامی ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے، مگر قانون شکنی کو مزاحمت کا واحد راستہ سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔
یورپ کی اپنی تاریخ بھی اس بحث سے الگ نہیں۔ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی خطوں نے نوآبادیاتی حکمرانی، بیرونی مداخلتوں اور جنگوں کے طویل اثرات بھگتے ہیں۔ ان حالات نے نقل مکانی کے اسباب میں بھی کردار ادا کیا، اگرچہ ہر مہاجر کی کہانی اور ہر ملک کے حالات مختلف ہیں۔ آج یورپ میں جب مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز سیاست زور پکڑتی ہے تو اس تاریخ کو یکسر بھلا دینا بھی درست نہیں۔ البتہ فرانس کے موجودہ بحران کی ہر وجہ کو صرف نوآبادیاتی ماضی سے جوڑ دینا بھی مسئلے کو سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ موجودہ حکومتوں کو اپنے معاشی اور سماجی مسائل کا جواب دینا ہوگا، نہ کہ ہر ناکامی کا بوجھ کسی کمزور طبقے پر ڈال دینا چاہیے۔
فرانس کے ہنگامے آخرکار ایک سوال چھوڑ جاتے ہیں: کیا مغربی سیاست اپنے شہریوں کے مسائل حل کرنے کی طرف بڑھے گی یا ایک بار پھر مہاجرین کو نشانہ بنا کر وقتی سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب صرف فرانس کی حکومت کے پاس نہیں، وہاں کے معاشرے اور سیاسی قیادت کے پاس بھی ہے۔ احتجاج کے شعلے بجھانا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس غصے کو جنم دینے والے اسباب دور کیے بغیر امن قائم نہیں ہوتا۔ اور انصاف کا پہلا تقاضا یہی ہے کہ جرم کرنے والے کو سزا ملے، پوری قوم یا مذہبی برادری کو نہیں۔



