پاکستان کی فی کس آمدنی2050تک تین گنا بڑھ سکتی ہے، عالمی بینک نے معاشی اصلاحات کو کلیدی قراردیدیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)عالمی بینک گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان اگر ڈھانچہ جاتی معاشی اصلاحات پر تیز رفتار اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کرے تو 2050 تک اس کی فی کس آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والی پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام کے حصول میں پیش رفت کے بعد پاکستان کو تیز رفتار اور پائیدار اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا اہم موقع میسر آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مستحکم معاشی پالیسیوں نے معیشت کو سہارا دیا، تاہم مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات بھی پاکستانی معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ شرح 3.2 فیصد تھی۔ محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کے نتیجے میں بنیادی مالیاتی سرپلس مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے ریکارڈ 2.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ ترسیلات زر میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر کو دوبارہ بڑھانے میں بھی مدد ملی۔

عالمی بینک نے مزید بتایا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے اعتراف میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی، جبکہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا سے عالمی قرض مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی ممکن ہوئی۔

پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور عالمی منڈیوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق فی کس حقیقی آمدنی میں اضافے کی شرح اب بھی تقریباً 1.6 فیصد تک محدود ہے، جس کے باعث اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے اصلاحات پر فوری عملدرآمد ضروری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کامیاب ممالک کی طرز پر وسیع البنیاد اور مؤثر معاشی اصلاحات اپنائے تو پائیدار اقتصادی ترقی کی سالانہ شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس رفتار سے پاکستان 2050 تک ویتنام کی موجودہ فی کس آمدنی کی سطح حاصل کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف سیباسچئین ایسل کے مطابق معاشی استحکام کے باوجود پاکستان میں مالی وسائل اور زرمبادلہ کی دستیابی محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے والی ڈھانچہ جاتی اصلاحات اگلا اہم قدم ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button