سندھ کیخلاف کوئی سازش قبول نہیں کرینگے ،ڈاکٹر قادر مگسی

حیدرآباد( رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ ہمارا مادرِ وطن ہے، جس کی جغرافیائی حدود، تاریخی وحدت، قومی شناخت اور قدرتی وسائل کے خلاف کسی بھی سازش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، سندھ ہزاروں سالہ تاریخ، تہذیب، ثقافت اور اپنی منفرد قومی شناخت رکھنے والی سرزمین ہے، جس کی وحدت اور وجود کا تحفظ ہر باشندۂ سندھ کا قومی فرض ہے، 29 نومبر کو کراچی میں لاکھوں سندھی جمع ہو کر اپنے وطن کے دفاع کے لئے آواز بلند کریں گے وہ ترقی پسند ہاؤس حیدرآباد میں سندھ کے نامور ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور قلم نگاروں کے ساتھ منعقدہ ایک نشست سے خطاب کر رہے تھے ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم، جغرافیائی حدود میں ردوبدل یا اس کے وسائل پر قبضے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سندھ کے عوام متحد ہو کر کھڑے ہوں گے اور اپنے مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد اور قربانی دینے کے لئے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ 29 نومبر کو کراچی میں لاکھوں سندھی جمع ہو کر اپنے مادرِ وطن کے دفاع، سندھ کی وحدت، وسائل اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کریں گے اور ملک سمیت پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دیں گے کہ سندھ کی تقسیم یا اس کی تاریخی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی بھی منصوبہ سندھ کے عوام کو قبول نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کسی کی جاگیر نہیں بلکہ کروڑوں باشندگانِ سندھ کا مشترکہ وطن ہے، جس کے تحفظ کے لیے سندھ کے عوام ہر دور میں جدوجہد کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اپنے قومی وجود اور حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ ترقی پسند پارٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ’’سندھ میری ماں‘‘ قومی کانفرنس سندھ کی وحدت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی، جس میں سندھ سمیت ملک کے مختلف صوبوں اور مختلف زبانیں بولنے والے نمائندوں نے شرکت کی اور سندھ کی تاریخی و جغرافیائی وحدت کے تحفظ پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی تقسیم کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت کا مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت، طبقے یا مخصوص زبان بولنے والے افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سندھ میں بسنے والے تمام لوگوں کے مشترکہ وجود، شناخت، مستقبل اور حقوق کا مسئلہ ہے۔ سندھ میں رہنے والا ہر وہ شخص، خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، جو سندھ کو اپنی ماں سمجھتا ہے، وہ سندھی ہے اور وہ اپنے مادرِ وطن سندھ کی تقسیم کو کبھی قبول نہیں کرے گا، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ قوموں کی بقا، شناخت اور تاریخی وجود کے تحفظ میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور قلم کاروں کا کردار ہمیشہ انتہائی اہم رہا ہے، کیونکہ قلم قوموں کے شعور کو بیدار کرنے، معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے اور قومی حقوق کی جدوجہد کو فکری بنیاد فراہم کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، انہوں نے سندھ کے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور قلم کاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قلم، شاعری، ادب، تحقیق اور فکری تخلیقات کے ذریعے سندھ کے عوام، بالخصوص نوجوان نسل میں قومی شعور پیدا کریں، سندھ کی تاریخی حیثیت، تہذیبی ورثے، قدرتی وسائل اور جغرافیائی وحدت کی اہمیت کو اجاگر کریں اور سندھ کے خلاف ہونے والی سازشوں سے عوام کو آگاہ کریں، انہوں نے کہا کہ سندھ کی قومی تحریکوں میں ادیبوں اور دانشوروں نے ہمیشہ فکری رہنمائی کا کردار ادا کیا ہے اور موجودہ حالات میں بھی اہلِ قلم کو اپنی تاریخی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سندھ کے قومی حقوق کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ ترقی پسند پارٹی ’’سندھ میری ماں‘‘ عوامی رابطہ مہم کو سندھ کے کونے کونے تک پھیلائے گی، جس کے تحت شہر شہر، گاؤں گاؤں، بستی بستی اور دور دراز علاقوں تک پہنچ کر عوام کو سندھ کی وحدت، وسائل، قومی حقوق اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے بیدار، متحد اور منظم کیا جائے گا۔

اس موقع پر ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ سندھ کی موجودہ سیاسی صورت حال، سندھ کی وحدت کو درپیش خدشات، قومی شعور کے فروغ، ادب اور سیاست کے سماجی کردار، 29 نومبر کو کراچی میں ہونے والے اجتماع اور ’’سندھ میری ماں‘‘ عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

نشست میں سندھ کے نامور ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں نیاز پنہور، منصور قادر جونیجو، ڈاکٹر اسحاق سمیجو، امداد چانڈیو، ڈاکٹر عبدالمجید چانڈیو، ڈاکٹر عبدالفتاح داؤدپوتہ، غلام مصطفیٰ بلوچ، اللہ بخش کنبھر، فہیم نوناری اور ناز سہتو نے شرکت کی، جب کہ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین انجینئر گلزار سومرو، مرکزی رہنما ہوت خان گاڈھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، قادر چنا، ڈاکٹر سومار منگریو، حیدر ملاح، عاشق سولنگی، سحر رضوی، خدابخش درس، محمد علی ابڑو، ایڈووکیٹ سروان مگسی اور دیگر بھی موجود تھے

مزید خبریں

Back to top button