سندھ میں سندھی زبان نہ پڑھانے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ٹھٹھہ( جاوید لطیف میمن )سندھی زبان نہ پڑھانے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، زبان قوموں اور دھرتی کی پہچان ہے، سندھی ادبی سنگت کامطالبہ۔
سندھی ادبی سنگت شاخ ٹھٹھہ کی ادبی نشست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سندھ میں سندھی زبان نہ پڑھانے والے اسکولوں، خصوصاً نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ زبان قوموں اور دھرتی کی پہچان ہوتی ہے، اس لیے سندھی زبان کے فروغ اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
شاہ کے پارکھو اور نامور شاعر محمد مارو خشک کی صدارت میں منعقدہ نشست میں قلمکاروں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بعض نجی اسکولوں میں سندھی زبان کو نظرانداز کرنے کا رجحان تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق اس رویے کی حوصلہ شکنی کرکے مادری زبان کی تعلیم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ادبی نشست میں تخلیق کاروں نے اپنی نئی تحریریں تنقید اور اصلاح کے لیے پیش کیں۔ لعل بخش کاتیار اور فقیر اکرم منگھار نے مضامین، فقیر غلام حسین گگدام اور ڈاکٹر مارو خشک نے نظمیں، احمد خان جاکھرو اور محمد خان ملاح نے غزلیں، فرحان علی صاحبرانی نے گیت جبکہ شہمیر شاد نے بیت پیش کیے۔پیش کی گئی تخلیقات کا سکندر علی جاکھرو، فقیر ابن، نیاز احمد ملاح اور دیگر شرکاء نے اصلاحی جائزہ لیا اور ادبی پہلوؤں پر گفتگو کی۔پروگرام کا آغاز انور آرزو میمن نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سُر کنبھاٹ کی وائی اپنی سریلی آواز میں پیش کرکے کیا، جس سے محفل کا ادبی رنگ مزید نمایاں ہوگیا۔



