بدین میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے لیئے آگاہی پروگرام، شادی سے قبل خون کا ٹیسٹ کرانے پر زور
ایک معمولی غفلت بچوں کو عمر بھر کی اذیت میں مبتلا کر سکتی ہے مقررین کا خطاب

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے)منو بھائی تھیلیسیمیا کیئر سینٹر بدین، محکمہ اقلیتی امور حکومت سندھ اور کاشف تھیلیسیمیا سینٹر کراچی کے اشتراک سے تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماری سے بچاؤ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ضلع بدین کی مختلف اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ اقلیتی امور جمشید عالم میمن، کاشف تھیلیسیمیا سینٹر کے چیئرمین کاشف اقبال، ڈاکٹر ہارون میمن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بدین ڈاکٹر وسیم عباس خواجہ، اقلیتی کونسلر سائیں جیوتر رام میگھواڑ سمیت اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں، پنڈتوں اور سماجی کارکنوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس مرض میں جسم صحت مند سرخ خون کے خلیات مناسب مقدار میں نہیں بنا پاتا، جس کے باعث متاثرہ بچوں کو باقاعدگی سے خون لگوانا پڑتا ہے اور انہیں زندگی بھر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مقررین نے کہا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے اس مرض کی روک تھام کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا کی اسکریننگ، خصوصاً Hb Electrophoresis ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ بیماری کی موروثی منتقلی کے خطرے کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے اور آئندہ نسلوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب طبی رہنمائی حاصل کی جا سکے مقررین نے خصوصی طور پ شادیوں کی تقریبات انجام دینے والے پنڈتوں سے اپیل کی کہ وہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی اہمیت کے حوالے سے جوڑوں اور ان کے خاندانوں کو آگاہ کریں اور انہیں طبی مشورہ حاصل کرنے کی ترغیب دیں انہوں نے کہا کہ شادی سے پہلے ایک سادہ طبی ٹیسٹ اور مناسب مشاورت مستقبل میں بچوں کو شدید تکلیف سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ تھیلیسیمیا کے خلاف شعور بیدار کرنے اور اس مرض کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں



