افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، سابق پاکستانی سفیر کا مطالبہ

ماسکو(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر مؤثر اور قابلِ تصدیق عمل درآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ماسکو میں وسطی ایشیا اور افغانستان کی سلامتی سے متعلق سی ایس ٹی او، سی آئی ایس اور شنگھائی تعاون تنظیم کی مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کا خواہاں ہے، کیونکہ وہاں ہونے والی پیش رفت کے براہِ راست اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جغرافیے، تاریخ، مذہب، ثقافت اور عوامی روابط کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور مشکل حالات میں افغان عوام کی مدد کی، تاہم افغانستان میں طویل جنگ اور عدم استحکام کے باعث پاکستان کو بھی بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
سابق پاکستانی سفیر کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک، بالخصوص پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں بدستور پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔
سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان مختلف سطحوں پر افغان حکام کے ساتھ دہشت گردی کا معاملہ مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔ اب کابل کی جانب سے ایسے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے جن کے نتائج عملی طور پر سرحد کے دوسری جانب بھی نظر آئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کو کسی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دہشت گرد گروہوں کے درمیان امتیاز برتنا پورے خطے کی اجتماعی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے دہشت گرد تنظیموں، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی اسلحے اور سرحد پار منظم جرائم کے خلاف مربوط علاقائی حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا۔
سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو تنہا کرنے کے حق میں نہیں بلکہ افغان حکام کے ساتھ بامقصد اور تعمیری روابط کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم، ان روابط کے ساتھ افغان عبوری حکومت کو اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و استحکام سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور مواصلاتی رابطوں کے وسیع امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ علاقائی منصوبوں سے افغانستان سمیت تمام متعلقہ ممالک کو معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے امن اور سلامتی بنیادی شرط ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستان کو علاقائی تعاون کے نظام میں شامل کرنے اور افغان حکام کے ساتھ عملی روابط جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی بات کی، جبکہ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں مغربی فوجی تنصیبات کے قیام کی مخالفت دہرائی۔
دوسری جانب افغانستان کے سفیر حسن گل حسن نے افغان عبوری حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے ملک میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق الزامات مسترد کردیے۔ انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ سرحدی سلامتی، اقتصادی ترقی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
تاہم پاکستانی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقائی امن کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔
کانفرنس میں روسی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف، علاقائی تنظیموں کے اعلیٰ حکام، سفارت کاروں، سکیورٹی ماہرین اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔



