اسرائیلی صدر کے خطاب پر 10 ممالک کا احتجاج، مندوبین کا سیکا اجلاس سے واک آؤٹ

باکو(ویب ڈیسک) آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیائی ممالک کی تنظیم کانفرنس آن انٹرایکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میئرز ان ایشیا (سیکا) کے سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے خطاب پر 10 ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ اسرائیلی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے نمائندوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ یہ اقدام غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں اسرائیلی صدر کی شرکت کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آیا۔
رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ان کا وفد اسرائیلی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا، جبکہ دیگر ممالک کے متعدد نمائندوں نے بھی احتجاجاً اجلاس چھوڑ دیا۔
سیکا سربراہی اجلاس کی میزبانی آذربائیجان اپنی باری کی صدارت کے تحت کر رہا ہے۔ یہ تنظیم 28 ممالک پر مشتمل ہے، جس کا بنیادی مقصد ایشیائی ریاستوں کے درمیان مکالمے، اعتماد سازی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک ایشیا کے تقریباً 90 فیصد رقبے اور دنیا کی نصف سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ترکیہ سیکا کے بانی ممالک میں شامل ہے۔ اس نے 2010 میں استنبول میں تنظیم کے تیسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی اور 2010 سے 2014 تک تنظیم کی باری کی صدارت بھی سنبھالی تھی۔
اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران ہونے والا یہ احتجاج غزہ میں جاری جنگ کے باعث اسرائیل پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کی عکاسی کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مکانات، ہسپتالوں، سکولوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انسانی امداد اور طبی سامان کی فراہمی پر پابندیوں کے باعث بھی متاثرہ آبادی کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں مبینہ بین الاقوامی جرائم کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں قانونی کارروائیاں بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مختلف عالمی فورمز پر اسرائیل پر سیاسی اور قانونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں بھی شہری جنگ بندی، فلسطینی عوام کے تحفظ اور مبینہ جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ باکو میں ہونے والا واک آؤٹ بھی غزہ کی صورت حال پر عالمی سطح پر پائے جانے والے اختلافات اور احتجاج کی ایک نمایاں مثال ہے۔



