بھارت میں مسلم آبادی پانی سے محروم، معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا

کولکتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں مسلم آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی بند ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیوتی نگر کالونی میں پانی کی سپلائی معطل ہونے سے تقریباً 5 ہزار غریب مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر انتخابی انتقام کے تحت مسلم آبادی کی پانی کی فراہمی بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپل حکام نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی سپلائی بند کر دی، تاہم قریبی ہندو آبادی میں پانی کی فراہمی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پانی کی عدم دستیابی کے باعث مقامی افراد ایک کلومیٹر دور سے آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے مقامی حکام، حکومت اور ہائی کورٹ سے شنوائی نہ ہونے کے بعد پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔
سمیر الاسلام نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں پہلی مرتبہ اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت کا مبینہ اقدام انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق پینے کا صاف پانی بنیادی انسانی حق ہے اور اس معاملے کو محض انتظامی مسئلہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے مبینہ طور پر اعلان کیا تھا کہ انہیں ووٹ نہ دینے والوں کے کام نہیں کیے جائیں گے اور ان کے خلاف حساب کتاب کا عمل آئندہ پانچ برس تک جاری رہے گا۔
کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی کے مطابق مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف سیاست میں شدت آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری مشکلات اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کے خدشات کے باعث مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت کو سیاسی یا مذہبی تعصب کی بنیاد پر متاثر کرنا انسانی حقوق کے عالمی منشور کی روح کے منافی ہے۔ تاہم پانی کی فراہمی بند کرنے کے معاملے میں عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
غیر ملکی میڈیا نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2022 میں مدھیہ پردیش میں پرتشدد واقعات کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں کے بنیادی میونسپل کنکشن منقطع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اسی سال نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی کے بعد مسلم آبادی والی بستیوں میں بجلی، پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات معطل کیے جانے کی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں۔



