میر رضا کی موت کا معمہ، عدالتی کمیشن نے انکوائری رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کر دی

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) میر رضا کی موت سے متعلق تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ رپورٹ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری جاوید ابڑو نے وصول کی، جبکہ رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق عدالتی کمیشن کی رپورٹ سربمہر لفافوں میں دی گئی ہے اور یہ چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے ساتھ کورنگ لیٹر بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام بھیجا گیا ہے۔ توقع ہے کہ رپورٹ میں واقعے سے متعلق حقائق اور میر رضا کی موت کے حالات کا تفصیلی جائزہ شامل ہوگا، جس سے یہ تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ موت قتل تھی یا خودکشی۔

رپورٹ وصول کرنے کے بعد ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ جاوید ابڑو نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے اور اب آئندہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی کارروائی اوپن کورٹ میں ہوئی، تاہم رپورٹ سربمہر لفافے میں دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ داخلہ کی ذمہ داری رپورٹ حکومت تک پہنچانا تھی، جبکہ اس کے بعد کا فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق عدالتی کمیشن کی کارروائی کے دوران 49 افراد کے بیانات ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے، جبکہ کمیشن نے مجموعی طور پر 15 سماعتیں کیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے بھی دو بیانات ریکارڈ کیے۔ میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن 24 اگست کو تشکیل دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ میر رضا کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ واقعے کے بعد طویل احتجاج کیا گیا، جبکہ موت کی وجوہات جاننے کے لیے پہلے پوسٹ مارٹم اور بعد ازاں قبر کشائی بھی کی گئی۔

میر رضا کے اہلخانہ واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب عدالتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے اور اسے عام کرنے سے متعلق سندھ حکومت کے فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button