ایران ریاست کے انہدام کے خطرے سے نکل چکا، امریکی زمینی حملہ ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایرانی جنرل

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بیرونی حملے کے نتیجے میں ریاست کے انہدام کے خطرے سے آگے نکل چکا ہے، تاہم ملک پر دوبارہ فوجی حملے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

ایرانی جنرل کا کہنا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی عسکری تیاریوں میں بہتری لائی ہے۔

یداللہ جوانی نے کہا کہ ایران نے اپنے فوجی دستوں اور عسکری وسائل کی تعیناتی کے نظام کو بہتر بنایا ہے، جس سے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول فوجی وسائل کی بہتر تقسیم اور دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی ایران کو نئی صورتحال سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کا نیا دفاعی نظام امریکی زمینی حملے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی افواج ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی عسکری عہدیدار کے اس بیان میں ایک جانب ایران کی دفاعی تیاریوں میں بہتری پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ایران کے دفاعی نظام کی صلاحیتوں سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button