ریاض ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ، 12 افراد جاں بحق، 309 زخمی، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رواں ہفتے ہونے والے تیسرے حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔ سعودی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سعودی شہری، 2 بنگلہ دیشی جبکہ امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغی رواں ہفتے سعودی عرب پر ہونے والے پہلے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے اندر دھماکے کے بعد متعدد زخمی افراد زمین پر پڑے دکھائی دیے، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور ہسپتال منتقل کرنے کے لیے درجنوں ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
ایک زخمی مسافر نے بتایا کہ اس نے ایئرپورٹ کے باہر آسمان پر ایک چیز کو تیزی سے گزرتے دیکھا، جس کے کچھ ہی دیر بعد روانگی کے ایک دروازے کے قریب چھت کا ایک حصہ گر گیا۔
واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور ہنگامی امدادی اقدامات سے متعلق صورتحال توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی حالت اور حملے کی نوعیت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔



