ٹرمپ کا پوتن سے مثبت رابطے کا دعویٰ، روس سے لاکھوں ٹن ڈیزل کی فراہمی اور آبنائے ہرمز جلد کھلنے کی امید

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کو مثبت اور کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کی فراہمی اور عالمی امور سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق روس جلد امریکا اور عالمی منڈی کو 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی متوقع ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ روسی ریفائنریز کی صورتحال سازگار ہونے پر مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق روس کی جانب سے ڈیزل کی فراہمی میں اضافے سے امریکا سمیت عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔ تاہم ان مجوزہ ترسیلات کی تفصیلات اور آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ممکنہ خطرات کا ذکر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران پہلے سان ڈیاگو اور بعد ازاں لاس اینجلس کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ شہر میزائل حملوں کے لیے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں، تاہم امریکی صدر نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق معاملہ جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور یہ اہم بحری گزرگاہ جلد کھل جائے گی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس کی صورتحال میں تبدیلی عالمی منڈیوں اور ایندھن کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد روس کی جانب سے ڈیزل کی مجوزہ فراہمی، ایران سے متعلق سکیورٹی خدشات اور آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ متعلقہ ممالک کے حکام کے ردعمل اور ان دعوؤں کی تصدیق کے بغیر انہیں امریکی صدر کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔



