لاہور میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا، ایل پی جی سرکاری نرخ سے 200 روپے فی کلو تک مہنگی فروخت ہونے لگی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) شہر میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور پریشر میں شدید کمی کے باعث شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہو گئے، جبکہ دکانداروں کی جانب سے سرکاری نرخ نامے کو نظرانداز کرتے ہوئے گیس من مانی قیمتوں پر فروخت کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت 258 روپے 65 پیسے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہی گیس 400 سے 470 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ اس طرح شہریوں کو سرکاری نرخ کے مقابلے میں 141 روپے 35 پیسے سے 211 روپے 35 پیسے فی کلو تک اضافی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔
سوئی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث گھریلو صارفین کے لیے کھانا پکانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں شہریوں کو متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی خریدنا پڑ رہی ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں مبینہ طور پر زائد قیمتوں کے باعث گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں ایل پی جی مہنگے داموں مل رہی ہے، اس لیے اسے سرکاری نرخ پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔ تاہم سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کیے جانے والے نرخوں کے درمیان نمایاں فرق نے قیمتوں پر عمل درآمد اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام ایل پی جی کی قیمتوں کی نگرانی کریں اور سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔



