بورے والا:نائب تحصیلدار کی شاہانہ مصروفیات سائلین کاؤنٹر کے باہر خوار

بورے والا (رپورٹ: محمد ریحان خالد سندھو،جانو ڈاٹ پی کے) بورے والا کی رجسٹری برانچ میں سائلین کے انتظار اور نائب تحصیلدار کے مبینہ طرزِ عمل سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر کے بعد شہری حلقوں میں تشویش اور مختلف سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سامنے آنے والی تصاویر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ نائب تحصیلدار ملک محمد شکیل دفتر میں ڈیوٹی کے دوران میز پر ٹانگیں رکھے موبائل فون استعمال کر رہے تھے، جبکہ دوسری جانب سائلین اپنے کام کے سلسلے میں کاؤنٹر کے باہر انتظار کرتے دکھائی دیے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں آنے والے افراد اپنے جائز مسائل کے حل اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے وقت صرف کرتے ہیں، اس لیے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو سائلین کی بروقت رہنمائی اور سہولت کو ترجیح دینی چاہیے۔

مقامی شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر سائلین اپنی باری کے لیے طویل انتظار کریں اور متعلقہ افسر ڈیوٹی کے دوران موبائل فون میں مصروف نظر آئے تو سرکاری دفاتر میں عوامی خدمت کے معیار کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے۔

شہری حلقوں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ملک محمد شکیل اس سے قبل گگو منڈی میں بھی تعینات رہ چکے ہیں، جہاں ان کے مبینہ عوامی رویے سے متعلق شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح بورے والا میں مالی معاملات اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق الزامات کے باعث انہیں 3 ستمبر 2026 کو معطلی کا سامنا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم بعد ازاں ان کی دوبارہ تعیناتی عمل میں آنے پر شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری افسر کے خلاف ماضی میں شکایات یا محکمانہ کارروائیاں سامنے آچکی ہوں تو اہم ذمہ داری پر دوبارہ تعیناتی کے بعد اس کے طرزِ عمل اور کارکردگی کی مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔

شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سامنے آنے والی تصاویر اور متعلقہ شکایات کے معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کی جائے، حقائق کا تعین کیا جائے اور اگر کسی قسم کی کوتاہی یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر عوام کی سہولت اور مسائل کے حل کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اس لیے سائلین کو بلاوجہ انتظار سے بچانا اور ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنا متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button