دہشتگردی کے خاتمے سے زیادہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،سہیل آفریدی

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ گولی چلائیں گے، ہم اپنے سینے پیش کریں گے، ان کی کوشش ہے کہ ہم کوئی غیر آئینی اقدام کریں لیکن ہماری جدوجہد آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہوگی، مشرقی پاکستان کو الگ کرنے والے اب صوبے میں گورنر راج لگانے کی سازشیں کررہے ہیں۔

یہ بات انہوں ںے پشاور میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہی۔ لانگ مارچ باڑہ خیبر سے روانہ ہو کر پشاور میں داخل ہوا، جہاں وزیراعلیٰ نے حیات آباد ٹول پلازہ، بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی گیٹ، کبوتر چوک اور دیگر مقامات پر لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں، مگر ہم پاکستانی تھے، پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گے ہم کسی کے بیانیے میں نہیں آئیں گے اور ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، ہمارا لیڈر قومی یکجہتی کی علامت ہے میں نے سات مطالبات پیش کیے اور چیلنج کیا کہ ان میں سے ایک بھی مطالبہ غیر قانونی ثابت کردیں، مگر وہ ایسا نہیں کرسکے، ہم سے ملٹری آپریشن، ایمرجنسی اور ڈرون حملوں کی اجازت مانگی گئی لیکن میں نے صاف انکار کردیا کیوں کہ ان کی نیت میں فتور ہے یہ دہشت گردی کے خاتمے سے زیادہ پی ٹی آئی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی نیت درست کریں اور ہماری دی گئی پالیسی پر عمل کریں تو سو دنوں کے اندر امن بحال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ہم نے جدید تقاضوں کے مطابق ای گورننس کو فروغ دیا، خیبرپختونخوا کو ڈیجیٹل گورننس ایوارڈ ملا، ریکارڈ کابینہ اجلاس منعقد کیے اور صوبائی اسمبلی نے دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، مگر ہم نے یہ ایوارڈز حاصل کرنے کے لیے سرکاری جہاز استعمال نہیں کیا،اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو صوبائی حکومت کی کارکردگی نظر نہیں آتی۔

مرکز میں حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 48 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہے، جبکہ پاکستان کی فی کس آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے حیرت ہے کہ حکمران اب بھی پریس کانفرنسیں کرتے ہیں کہ پاکستان ترقی کررہا ہے، جن لوگوں نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی اور بیرون ملک جزیرے خریدے، وہ سمجھ دار اور ہم ناسمجھ ہیں جن کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے لوگ شہید ہورہے ہیں اور نوجوان و صنعتکار ملک سے باہر جانے پر مجبور ہیں، وہ سمجھدار اور ہم ناسمجھ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں صوابی میں آپ کا منتظر رہوں گا،ہماری آواز دبانے کی ناکام کوشش میں کئی روز سے موبائل سگنلز بند کیے جارہے ہیں، اس کے باوجود ان کی ’’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘‘ اگر سگنلز بند نہ کیے جاتے تو آج کا منظر دیکھ کر وہ اپنے ہوش کھو بیٹھتے۔ انہوں نے لانگ مارچ کے شرکاء سے کہا کہ ہم صوابی کی طرف نکلیں گے اور ان کی نیندیں حرام کردیں گے، ان شاءاللہ۔ میں خود آپ کو لیڈ کروں گا۔ آپ نے ثابت قدم رہنا ہے اور حقیقی آزادی کا خواب پورا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نوجوانوں کا لانگ مارچ ہے یہ کوئی فکسڈ میچ نہیں بلکہ فیصلہ کن مارچ ہوگا، پہلے ٹیسٹ میچ، پھر ٹی ٹونٹی اور آخر میں ٹی ٹین کھیلیں گے، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، ان شاءاللہ حقیقی آزادی کا خواب ضرور پورا ہوگا، وہ گولی چلائیں گے، ہم اپنے سینے پیش کریں گے ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج لانگ مارچ کے پانچویں دن کا آغاز ہورہا ہے، پاکستان میں ہمیشہ سے دو دستور رہے ہیں، ایک طاقتور اور امیر کے لیے اور دوسرا کمزور اور غریب کے لیے ایک خاص مائنڈ سیٹ نے پختونوں کو ہمیشہ بھیڑ بکریاں سمجھا اور انہیں تجربہ گاہ بنایا۔ 2004 سے آج تک 22 بڑے اور 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ہمارا خون اتنا سستا سمجھا گیا کہ گھر تباہ ہونے کی صورت میں صرف چار لاکھ روپے مختص کیے گئے، جس سے آج ایک واش روم بھی نہیں بن سکتا۔ اس کے باوجود ہمارے لوگوں نے قربانیاں دیں اور 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ وہ چار لاکھ روپے بھی آج تک ادا نہیں کیے گئے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 80 ہزار جانیں قربان کرنے کا صلہ یہ دیا گیا کہ ایک مسلط شدہ وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں انڈیا سے نہیں بلکہ صوبوں سے خطرہ ہے۔ اگر یہ بیان ریاست کے دیرینہ بیانیے کی تردید ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد کون ہے، ہم یا وہ جو ایسا بیان دے رہے ہیں؟

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان ناحق جیل میں قید ہیں لاکھ کوششوں کے باوجود انہیں جھکایا نہیں جاسکا قید کے دوران ان کی صحت خراب ہوئی، اس کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پاکستان کا نوجوان باہر نکلے گا، ہم سیاسی اور جمہوری قوت ہیں ان کی کوشش ہے کہ ہم کوئی غیر آئینی اقدام کریں لیکن ہماری جدوجہد آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے تین سالہ دور میں ملک نے ترقی اور خوشحالی دیکھی۔ اگر اب بھی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا ہے تو عمران خان کو باہر لانا ہوگا، ہم نے اپنے مطالبات کے لیے طویل صبر کیا اور ہمارے تمام مطالبات آئین و قانون کے مطابق تھے۔ جن لوگوں نے پختونوں کو ہمیشہ کیڑے مکوڑے سمجھا، انہوں نے شرط رکھی کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دی جائے لیکن میں نے اپنے قائد عمران خان کی زبان میں کہا، ایبسلوٹلی ناٹ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ رجیم چینج سے پہلے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کی فی کس آمدنی 1700 ڈالر تھی، جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے زائد تھی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ ملک میں امن تھا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین تمام اداروں اور قومی و بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹس کو ساتھ ملا لیں، تب بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتے۔ اب فیصلہ عوام کا ہوگا یہاں عوامی راج ہے اور یہ عمران خان کا راج ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج ہم پشاور میں ہیں اور جلد صوابی پہنچیں گے، کل چارسدہ میں اگلا لائحہ عمل دیں گے کل چارسدہ میں اصل پلان کا کچھ حصہ منکشف کروں گا، جبکہ صوابی پہنچ کر حتمی پلان دوں گا۔ صوابی سے آگے کی منزل کیا ہے، یہ صوابی میں ہی بتائیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button