اے آئی بھی صنفی امتیاز سے نہ بچ سکا؟خواتین بوٹس کو ایک جیسے کام پر10فیصد کم معاوضہ

 لِمرِک (جانو ڈاٹ پی کے) نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ملازمت کی دنیا میں پایا جانے والا صنفی امتیاز مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تک بھی پہنچ سکتا ہے، جہاں ایک جیسے کام کے باوجود خواتین سے منسوب اے آئی ایجنٹس کو مرد اے آئی ایجنٹس کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا گیا۔

یونیورسٹی آف لِمرِک میں ہونے والی تحقیق کے دوران ورچوئل ریئلٹی پر مبنی ایک دفتری ماحول تیار کیا گیا، جس میں انسانوں نے مختلف اے آئی ایجنٹس کے ساتھ کام کیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق مرد شرکاء نے ایک ہی نوعیت کا کام انجام دینے والے خواتین اے آئی ایجنٹس کے مقابلے میں مرد اے آئی ایجنٹس کو زیادہ ادائیگی کی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین اے آئی ایجنٹس کو یکساں کام مکمل کرنے کے باوجود مرد اے آئی ایجنٹس سے تقریباً 10 فیصد کم معاوضہ ملا۔

تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میری ہاؤسفیلڈ کے مطابق تشویش کی بات یہ ہے کہ ان اے آئی ایجنٹس کے پیچھے بنیادی ٹیکنالوجی ایک جیسی تھی، تاہم لوگوں نے انہیں مختلف انداز میں ٹریٹ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر اے آئی کو غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے، لیکن ان سسٹمز کو ڈیزائن کرنے اور ان کی نمائندگی کے طریقے انسانی خیالات اور تعصبات کو بھی ان کے استعمال میں منتقل کر سکتے ہیں۔

تحقیق نے اس امکان کی جانب توجہ دلائی ہے کہ اگر اے آئی ایجنٹس کو مستقبل کے کام کی جگہوں پر باقاعدہ کردار دیا جاتا ہے تو انسانی تعصبات ان کے ساتھ ہونے والے سلوک اور معاوضے کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button