یوکرین میں روسی ڈرونز کی یلغار، ریڈار،ڈیٹا سینٹرز اور بندرگاہیں نشانے پر

ماسکو (جانو ڈاٹ پی کے) روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں فوجی لاجسٹکس مراکز، ریڈار نظام، ڈیٹا سینٹرز، بندرگاہی تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ رات ہونے والی کارروائیوں میں گیراں ڈرونز استعمال کیے گئے، جبکہ حملوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اوڈیسا اور پولتاوا ریجنز سمیت متعدد مقامات پر یوکرینی فوج سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی حکام کے مطابق اوڈیسا ریجن کے الیچیفکا میں راکٹوں اور میزائلوں کے ایک گودام، چرنومورسک بندرگاہ پر ایک مال بردار بحری جہاز اور ازمائل بندرگاہ میں فوجی سامان کی ترسیل و ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔
روسی وزارتِ دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ پولتاوا ریجن کے میرگورود اور اوڈیسا ریجن کے کاگارلیک میں یوکرینی ریڈار نظام بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ دونیتسک کے قریب یوکرینی نیشنل گارڈ کی ایک بریگیڈ کے عارضی مرکز کو جنگی طیاروں سے تباہ کیا گیا۔
روسی حکام کے مطابق ایک انٹرسیپٹر ڈرون نے 10 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر یوکرینی فوج سے منسلک ایک غبارے کو بھی نشانہ بنایا، جس کے ساتھ اسٹارلنک ماڈیول سے لیس ڈرون منسلک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے یوکرین کے مختلف شہروں میں متعدد ڈیٹا سینٹرز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کیف میں قائم اومیگا ٹیلی کام ڈیٹا سینٹر نے نقصان کے بعد اپنی سرگرمیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر یوکرینی انتظامیہ کے مطابق کیف کے زیر کنٹرول زاپوریژیا شہر میں دریائے دنیپر پر قائم ایک پل دھماکے سے متاثر ہوا، جبکہ یوکرینی میڈیا نے کیف میں دنیپر کے پلوں کی جانب جانے والی شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام کی اطلاع دی ہے۔
یوکرینی رکن پارلیمان آنا اسکوروخود نے دعویٰ کیا کہ دنیپر کے پلوں پر روسی حملوں کے دوران بڑی تعداد میں شہری کیف سے روانہ ہو رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں اور روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے بیان کردہ تمام نقصانات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔



