حوثیوں کے خلاف سعودی آپریشن میں امریکا بھی میدان میں! خفیہ فوجی معاونت کا انکشاف

ریاض (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم واشنگٹن براہِ راست جنگی کارروائی میں شامل نہیں۔
امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ امریکی اہلکار سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اہداف کے تجزیے اور انتخاب میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد امریکی انٹیلی جنس اور فوجی تجزیہ کار سعودی کمانڈ مراکز میں موجود ہیں، جہاں وہ حوثیوں کے خلاف ممکنہ اہداف کا تجزیہ اور انتخاب کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن سعودی جنگی طیاروں کی دفاعی فضائی گشت کے لیے فضائی ایندھن کی فراہمی بھی کر رہا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی فوجی معاونت فی الحال سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور حوثیوں کے خلاف اہداف کے تعین میں تعاون تک محدود ہے، جبکہ امریکی افواج حوثیوں کے خلاف براہِ راست حملوں میں حصہ نہیں لے رہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑا جوابی آپریشن شروع کیا ہے۔ سعودی قیادت میں اتحادی افواج حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں میں پیش قدمی اور سعودی اہداف پر میزائل و ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے واشنگٹن سے مزید فوجی تعاون طلب کیا تھا، تاہم امریکا نے فی الحال براہِ راست فضائی حملوں میں شرکت سے گریز کیا ہے۔



