فیول ریلیف پیکیج نہیں، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اصل ریلیف ہے، حافظ نعیم الرحمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا فیول ریلیف پیکیج مسئلے کا مستقل حل نہیں، عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ضروری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے وعدے پر عمل کریں، بصورت دیگر جماعت اسلامی ملتان سے کسی بھی وقت دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا روانگی سے قبل ان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے یقین دہانی کرائی تھی کہ وطن واپسی پر پٹرولیم مصنوعات کے معاملے کو دیکھیں گے، جس کے بعد جماعت اسلامی نے کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ مؤخر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فیول ریلیف پیکیج کو عوام کے لیے بڑا ریلیف قرار دے رہی ہے، تاہم اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد محدود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً اڑھائی کروڑ موٹر سائیکلیں اور 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بھی کوئی مؤثر ریلیف موجود نہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ حکومت احتجاج اور دھرنوں کے بعد ریلیف دینے کی جانب آئی، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی عوامی حقوق کے معاملے پر مؤثر آواز نہیں اٹھا رہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ماہانہ 26 ارب روپے کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، لیکن دوسری جانب پٹرولیم لیوی کی مد میں ماہانہ تقریباً 150 ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ بڑی گاڑیوں کے لیے ایندھن مہنگا اور عام صارفین کے لیے ریلیف کا الگ نظام بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے ایک دن کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوئی۔ ان کے بقول پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہی عوام کے لیے حقیقی ریلیف ہے اور جماعت اسلامی نے حکومت کو اس حوالے سے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنا وعدہ پورا کرکے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی نے 7 اکتوبر 2026 تک غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وقت مختص کر رکھا ہے، اس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button